مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسِّيَرِ] ‹ [بَابُ غَزْوَةِ الْفَتْحِ] · حديث 10255
10255 - وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: «لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَّةَ بَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى نَخْلَةٍ، وَكَانَتْ بِهَا الْعُزَّى، فَأَتَاهَا خَالِدٌ وَكَانَتْ عَلَى ثَلَاثِ سَمُرَاتٍ، فَقَطَعَ السَّمُرَاتِ، وَهَدَمَ الْبَيْتَ الَّذِي كَانَ عَلَيْهَا، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: " ارْجِعْ فَإِنَّكَ لَمْ تَصْنَعْ شَيْئًا ". فَرَجَعَ خَالِدٌ فَلَمَّا نَظَرَتْ إِلَيْهِ السَّدَنَةُ وَهُمْ حَجَبَتُهَا أَمْعَنُوا فِي الْجِبَلِ، يَقُولُونَ: يَا عُزَّى خَبِّلِيهِ، يَا عُزَّى عَوِّرِيهِ، فَأَتَاهُ خَالِدٌ فَإِذَا امْرَأَةٌ عُرْيَانَةٌ نَاشِرَةٌ شَعْرَهَا تَحْثُو التُّرَابَ عَلَى رَأْسِهَا، فَغَمَّمَهَا بِالسَّيْفِ حَتَّى قَتَلَهَا ثُمَّ رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: " تِلْكَ الْعُزَّى» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ الْمُنْذِرِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کوکھجوروں کے ایک باغ کی طرف بھیجا جہاں عزی ٰنامی بت تھا حضرت خالد رضی اللہ عنہ اس باغ میں آئے وہاں ٹیلے پر کچھ درخت تھے تو حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے ان کو کٹوادیا اور اس گھر کومنہدم کروادیا جو اس موجود پر تھا، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم واپس جاؤ کیونکہ تم نے کچھ نہیں کیا (یعنی پورا کام نہیں کیا) حضرت خالد رضی اللہ عنہ واپس گئے جب وہاں کے محافظین نے انہیں دیکھا تو انہیں پہاڑ میں نہیں آنے دیا وہ لوگ یہ کہ رہے تھے اے عزیٰ!اسے جنون لا حق کر دے، اس کوقبیح کر دے حضرت خالد رضی اللہ عنہ وہاں آئے تو وہاں ایک بر ہنہ عورت موجوتھی جس نے بال بکھرائے ہوئےتھے وہ اپنے سر پر مٹی ڈال رہی تھی حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے اس پرتلوار کا وار کر کے اسے قتل کر دیا پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس واپس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم ا نے ارشاد فرمایا : وہ عزی ٰتھی۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی یحییٰ بن منذرہے اور وہ ضعیف ہے۔
أَبِي الطُّفَيْلِ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › [Chapter of the Battle of Al-Fateh] · Hadith 10255
