مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسِّيَرِ] ‹ [بَابُ غَزْوَةِ الْفَتْحِ] · حديث 10243
10243 - وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ: «لَمَّا وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِذِي طُوًى، قَالَ أَبُو قُحَافَةَ لِابْنَةٍ لَهُ مِنْ أَصْغَرِ وَلَدِهِ: أَيْ بُنَيَّةُ أَظْهِرِينِي عَلَى أَبِي قُبَيْسٍ. قَالَ: وَقَدْ كُفَّ بَصَرُهُ. قَالَتْ: فَأَشْرَفْتُ بِهِ عَلَيْهِ، فَقَالَ: يَا بُنَيَّةُ مَاذَا تَرَيْنَ؟ قَالَتْ: أَرَى سَوَادًا مُجْتَمِعًا قَالَ: تِلْكَ الْخَيْلُ. قَالَتْ: وَأَرَى رَجُلًا يَسْعَى بَيْنَ ذَلِكَ السَّوَادِ مُقْبِلًا وَمُدْبِرًا، قَالَ: يَا بُنَيَّةُ، ذَلِكَ الْوَازِعُ - يَعْنِي الَّذِي يَأْمُرُ الْخَيْلَ وَيَتَقَدَّمُ إِلَيْهَا - قَالَتْ: قَدْ وَاللَّهِ انْتَشَرَ السَّوَادُ، قَالَ: إِذًا وَاللَّهِ دَفَعَتِ الْخَيْلُ، أَسْرِعِي بِي إِلَى بَيْتِي. وَانْحَطَّتْ بِهِ، وَتَلَقَّاهُ الْخَيْلُ قَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَى بَيْتِهِ، وَفِي عُنُقِ الْجَارِيَةِ طَوْقٌ مِنْ وَرِقٍ فَتَلَقَّاهَا رَجُلٌ فَاقْتَلَعَهُ مِنْهَا. قَالَتْ: فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَخَلَ الْمَسْجِدَ أَتَى أَبُو بَكْرٍ بِأَبِيهِ يَقُودُهُ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " هَلَّا تَرَكْتَ الشَّيْخَ فِي بَيْتِهِ حَتَّى أَكُونَ أَنَا آتِيهِ فِيهِ؟ ". فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هُوَ أَحَقُّ أَنْ يَمْشِيَ إِلَيْكَ مِنْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَيْهِ، قَالَ: فَأَجْلَسَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ مَسَحَ صَدْرَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُ: " أَسْلِمْ " فَأَسْلَمَ، وَدَخَلَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَأْسُهُ كَأَنَّهَا ثَغَامَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " غَيِّرُوا هَذَا مِنْ شَعْرِهِ ". ثُمَّ قَامَ أَبُو بَكْرٍ فَأَخَذَ بِيَدِ أُخْتِهِ، فَقَالَ: أَنْشُدُ اللَّهَ وَالْإِسْلَامَ طَوْقَ أُخْتِي، فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، فَقَالَ: يَا أُخَيَّةُ، احْتَسِبِي طَوْقَكِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَزَادَ: فَوَاللَّهِ إِنَّ الْأَمَانَةَ الْيَوْمَ فِي النَّاسِ لَقَلِيلَةٌ. وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ. وَرَوَاهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنْ أَسْمَاءَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ مِثْلَهُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدہ اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ذ ی طویٰ کے مقام پرٹھہرے تو حضرت ابوقحافہ رضی اللہ عنہ نے اپنی اولاد میں سے سب سے چھوٹی صاحبزادی سے فرمایا: اے میری بیٹی تم مجھے لے کے جبل ابو قبیس پر جاؤ راوی کہتے ہیں: اس وقت ان کی بینائی رخصت ہو چکی تھی وہ خاتون بیان کرتی ہیں میں انہیں لے کے پہاڑ پر چڑھ گئی ۔ انہوں نے فرمایا: اے میرے بیٹی تم کیا دیکھ رہی ہو؟ اس لڑکی نے جواب دیا میں بہت سے لوگوں کو دیکھ رہی ہوں ۔ انہوں نے فرمایا: وہ گھڑ سوار ہوں گے اس خاتون نے کہا: میں ایک شخص کو دیکھ رہی ہوں جو ان لوگوں کے آگے بھی ادھر ادھر آرہا ہےکبھی جارہا ہے۔ انہوں نے فرمایا: میری بیٹی وہ واضح ہوگا اس سے مراد یہ ہے کہ وہ شخص جو گھڑ سواروں کوحکم دیتا ہے اور انہیں آگےکرتا ہے وہ خاتون بیان کرتی ہیں اللہ کی قسم اب وہ لوگ بکھرنا شروع ہو گئے ہیں تو ابوقحافہ نے کہا: اللہ کی قسم ایسی صورت میں گھڑ سوار روانہ ہو گئے ہوں گے تم مجھے جلدی سے لے کے میرے گھر چلی جاؤ وہ لوگ وہاں سے نیچے اترےان کے گھر پہنچنے سے پہلے گھڑ سواران تک پہنچ چکے تھے اس لڑکی کی گردن میں چاندی کا ایک ہا رتھا ایک شخص اس لڑکی کے پاس آیا اور اس نے وہ ہار اس لڑکی کی گردن سے کھینچ لیاوہ لڑکی بیان کرتی ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے آئے اور مسجد میں آئے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے والد کو ساتھ لے کے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آئے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں ملاحظہ فرمایا تو ارشاد فرمایا: تم نے ان بزرگوار کو گھر میں کیوں نہیں رہنے دیا میں خود ان کے پاس آتاتوحضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ یہ چل کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئیں بہ نسبت اس کے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چل کر ان کے پاس جا ئیں راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اپنے سامنے بٹھالیا پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور پھر ان سے فرمایا آپ اسلام قبول کرلیں تو انہوں نے اسلام قبول کرلیا جس وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ انہیں ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے تھے تو حضرت ابو قحافہ کا سر ثغامہ نامی پھول کی طرح سفید تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نےفرمایا:ان کے بالوں کی رنگت تبد یل کردو پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اٹھے انہوں نے اپنی بہن کا ہاتھ پکڑا اور بولے میں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر یہ کہتا ہوں کہ میری بہن کا ہار واپس کر دو لیکن کسی نے انہیں جواب نہیں دیا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے میری بہن اپنے ہار کے حوالے سے ثواب کی امید رکھو۔یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ انہوں نے یہ الفاظ زائدنقل کیے ہیں اللہ کی قسم اب لوگوں میں امانت کم رہ گئی ہے ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں۔انہوں نے اسے ایک اور سند کے ساتھ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہ کے حوالے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کی مانند نقل کیا ہے۔ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں۔
قَدْ وَاللَّهِ انْتَشَرَ السَّوَادُ ← يَا بُنَيَّةُ، ذَلِكَ الْوَازِعُ يَعْنِي الَّذِي يَأْمُرُ الْخَيْلَ وَيَتَقَدَّمُ إِلَيْهَا ← وَأَرَى رَجُلاً يَسْعَى بَيْنَ ذَلِكَ السَّوَادِ مُقْبِلاً وَمُدْبِرًا ← تِلْكَ الْخَيْلُ ← أَرَى سَوَادًا مُجْتَمِعًا ← يَا بُنَيَّةُ مَاذَا تَرَيْنَ ← فَأَشْرَفْتُ بِهِ عَلَيْهِ ← وَقَدْ كُفَّ بَصَرُهُ ← لَدِهِ أَيْ بُنَيَّةُ أَظْهِريني عَلَى أَبِي قُبَيْسٍ ← أَبُو قُحَافَةَ لاَبْنِةٍ لَهُ مِنْ أَصْغَرِ ← لَمَّا وَقَفَ رَسُولُ اللهِ بِذِي طُوًى ← أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › [Chapter of the Battle of Al-Fateh] · Hadith 10243
