مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسِّيَرِ] ‹ [بَابُ غَزْوَةِ بِئْرِ مَعُونَةَ] · حديث 10127
10127 - وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «لَمَّا بَعَثَ حَرَامًا أَخَا أُمِّ سُلَيْمٍ فِي سَبْعِينَ رَجُلًا، قُتِلُوا يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ، وَكَانَ رَئِيسَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَئِذٍ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ، وَكَانَ هُوَ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: اخْتَرْ مِنِّي ثَلَاثَ خِصَالٍ: يَكُونُ لَكَ أَهْلُ السَّهْلِ، وَيَكُونُ لِي أَهْلُ الْوَبَرِ، أَوْ أَكُونُ خَلِيفَةً مِنْ بَعْدِكَ، أَوْ أَغْزُوكَ بِغَطَفَانَ أَلْفِ أَشْقَرَ وَأَلْفِ شَقْرَاءَ. قَالَ: فَطَعَنَ فِي بَيْتِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي فُلَانٍ قَالَ: غُدَّةٌ كَغُدَّةِ الْبَعِيرِ، فِي بَيْتِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي فُلَانٍ، ائْتُونِي بِفَرَسِي، فَأُتِيَ بِهِ فَرَكِبَهُ فَمَاتَ وَهُوَ عَلَى ظَهْرِهِ، فَانْطَلَقَ حَرَامٌ أَخُو أُمِّ سُلَيْمٍ وَرَجُلَانِ مَعَهُ: رَجُلٌ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ، وَرَجُلٌ أَعْرَجُ، فَقَالَ لَهُمْ: كُونُوا قَرِيبًا مِنِّي حَتَّى آتِيَهُمْ، فَإِنْ أَمَّنُونِي وَإِلَّا كُنْتُ قَرِيبًا مِنْكُمْ، فَإِنْ قَتَلُونِي أَعْلَمْتُمْ أَصْحَابَكُمْ، قَالَ: فَأَتَاهُمْ حَرَامٌ، فَقَالَ: أَتُؤَمِّنُونِي أُبَلِّغْكُمْ رِسَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْكُمْ؟ قَالُوا: نَعَمْ، فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُمْ، وَأَوْمَئُوا إِلَى رَجُلٍ لَهُمْ مِنْ خَلْفِهِمْ فَطَعَنَهُ، حَتَّى أَنْفَذَهُ بِالرُّمْحِ، قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، قَالَ: فَقَتَلُوهُمْ كُلَّهُمْ غَيْرَ الْأَعْرَجِ، كَانَ فِي رَأْسِ جَبَلٍ»، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حضرت ا نس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ماموں حضرت حرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو' جو سیدہ ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بھائی ہیں' انہیں ستر افراد کے ہمراہ بھیجا ' جو بعد میں "بئر معونہ" کے پاس شہید کر دیے گئے تھے' ان دنوں مشرکین کا سردار عامر بن طفیل تھا' وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: میرے لئے تین میں سے کوئی ایک چیز طے کر دیں' شہری علاقے کے لوگ آپ کے ساتھ ہو گے دیہاتوں کے لوگ میرے پاس رہیں گے' یا پھر یہ ہے کہ میں آپ کے بعد خلیفہ بن جاؤں گا' ورنہ پھر میں غطفان قبیلے کے دو ہزار جانوروں ( سمیت لوگوں) کے ہمراہ آپ کے ساتھ جنگ کروں گا۔راوی کہتے ہیں: بنو فلاں سے تعلق رکھنے والی عورت کے گھر میں اسے بیماری لاحق ہوئی ' اس نے کہا: یہ تو اونٹ کے غدہ کی طرح کا غدہ ہے' جو فلاں قبیلے سے تعلق رکھنے والی عورت کے گھر میں ہے' تم میرا گھوڑا میرے پاس لے کے آؤ! وہ اس کے پاس لایا گیا وہ اس پر سوارہوا ' پھر وہ اس کی پشت پر موجود رہتے ہوئے مر گیا۔ سیدہ ام سلیم کے بھائی حضرت حرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ گئے ' ان کےساتھ دو آدمی تھے' ایک کا تعلق بنو امیہ سے تھا' اور ایک شخص لنگڑا تھا۔ انہوں نے ان لوگوں سے کہا: تم میرے قریب رہنا' جب تک کہ میں تمہارے پاس نہیں آ جاتا ' اگر تو مجھے ان لوگوں نے امان دے دی تو ٹھیک ہے ' ورنہ تم لوگ میرے قریب ہو گے ' اگر وہ لوگ مجھے قتل کر دیتے ہیں' تو تم اپنے ساتھیوں کو اس بارے میں اطلاع دے دینا' پھر حضرت حرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان لوگوں کے پاس گئے' اور فرمایا: کیا تم مجھے اس بارے میں امان دیتے ہو کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے' تمہاری طرف پیغام کی تم تک تبلیغ کروں؟ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے! پھر وہ ان کے ساتھ بات چیت کرنے لگے' انہوں نے اپنے میں سے ایک شخص کو اشارہ کیا ' وہ ان کے پیچھے سے آیا ' اس نے انہیں نیزہ مارا ' یہاں تک کہ وہ نیزہ ان کے اندر سرایت کر گیا' تو انہوں نے فرمایا: اللہ اکبر ! رب کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا۔ روای کہتے ہیں؛ پھر ان لوگوں نے ان سب کو قتل کر دیا' صرف لنگڑے شخص کو قتل نہیں کیا' کیونکہ وہ پہاڑ کی چوٹی پر موجود تھا اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے۔
أَنَسٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › [Chapter of the invasion of Well Maounah] · Hadith 10127
