مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسِّيَرِ] ‹ [بَابٌ مِنْهُ فِي وَقْعَةِ أُحُدٍ] · حديث 10079
10079 - وَعَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَ: «أُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَوْسٌ، فَدَفَعَهَا إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ أُحُدٍ، فَرَمَيْتُ بِهَا بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى انْدَقَّتْ سِنَّتُهَا، وَلَمْ أَزَلْ عَلَى مَقَامِي نُصْبَ وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَلْقَى السِّهَامَ بِوَجْهِي، كُلَّمَا مَالَ سَهْمٌ مِنْهَا إِلَى وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَيَّلْتُ رَأْسِي لِأَقِيَ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلَا رَمْيٍ أَرْمِيهِ، فَكَانَ آخِرُهَا سَهْمًا بَدَرَتْ مِنْهَا حَدَقَتِي بِكَفِّي، فَسَعَيْتُ بِهَا فِي كَفِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي كَفِّي دَمَعَتْ عَيْنَاهُ، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ إِنَّ قَتَادَةَ قَدْ أَوْجَهَ نَبِيَّكَ بِوَجْهِهِ، فَاجْعَلْهَا أَحْسَنَ عَيْنَيْهِ وَأَحَدَّهُمَا نَظَرًا "، فَكَانَتْ أَحْسَنَ عَيْنَيْهِ، وَأَحَدَّهُمَا نَظَرًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.
حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک کمان تحفے کے طور پر دی گئی ' وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ احد کے دن مجھے دیدی' میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس کے ذریعے تیر اندازی کی' یہاں تک کہ اس کا تار ٹوٹ گیا' میں اپنی جگہ پر کھڑا رہا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے موجود رہا ' تاکہ اپنے چہرے کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تیروں سے بچا سکوں' جب بھی کوئی تیر ایک طرف سے ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کی طرف جاتا تھا' تو میں اپنے سر کو اس طرف مائل کر دیتا تھا' تاکہ تیر اندازی کیے بغیر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کو بچا سکوں ' ان میں سے جو آخری تیر تھا' وہ میری آنکھ پر لگا' میں نے اپنی ہتھیلی کے ذریعے اس کے بچانے کی کوشش کی تھی' میں اس کو ہتھیلی پر رکھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھاگا' جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے میری ہتھیلی پر ملاحظہ فرمایا ' تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے' آپ نے فرمایا: اے اللہ ! قتادہ نے اپنی ذات کے ذریعے تیرے نبی کو بچایا ہے' تو اس کی آنکھوں کو سب سے زیادہ خوبصورت اور اس کی نظر کو سب سے زیادہ تیز کر دے"۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو ان کی آنکھیں سب سے زیادہ خوبصورت تھیں اور ان کی نظر سب سے زیادہ تیز تھی۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے' اس کی سند میں ایسا راوی ہے' جس میں واقف نہیں ہوں۔
قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › [A door from it on the site of Uhud] · Hadith 10079
