مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسِّيَرِ] ‹ [بَابُ غَزْوَةِ الْفَتْحِ] · حديث 10231
10231 - وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَّةَ، أَرْسَلَ إِلَى نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ أَنَّهُ يُرِيدُ مَكَّةَ فِيهِمْ حَاطِبُ بْنُ أَبِي بَلْتَعَةَ، وَفَشَا فِي النَّاسِ أَنَّهُ يُرِيدُ حُنَيْنًا. قَالَ: فَكَتَبَ حَاطِبٌ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُرِيدُكُمْ. قَالَ: فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَبَا مَرْثَدٍ الْغَنَوِيَّ وَلَيْسَ مَعَنَا رَجُلٌ إِلَّا وَمَعَهُ فَرَسٌ، فَقَالَ: " ائْتُوا رَوْضَةَ الْخَاخِ ; فَإِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بِهَا امْرَأَةً وَمَعَهَا كِتَابٌ فَخُذْهُ مِنْهَا ". قَالَ: فَانْطَلَقْنَا حَتَّى رَأَيْنَاهَا بِالْمَكَانِ الَّذِي ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْنَا لَهَا: هَاتِي الْكِتَابَ. فَقَالَتْ: مَا مَعِي كِتَابٌ. قَالَ: فَوَضَعْنَا مَتَاعَهَا فَفَتَّشْنَاهَا فَلَمْ نَجِدْهُ فِي مَتَاعِهَا، فَقَالَ أَبُو مَرْثَدٍ: فَلَعَلَّهُ أَنْ لَا يَكُونَ مَعَهَا كِتَابٌ، فَقُلْنَا: مَا كَذَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا كَذَبْنَا، فَقُلْنَا لَهَا: لَتُخْرِجِنَّهُ أَوْ لَنُعَرِّيَنَّكِ. فَقَالَتْ: أَمَا تَتَّقُونَ اللَّهَ، أَمَا أَنْتُمْ مُسْلِمُونَ؟! فَقُلْنَا: لَتُخْرِجِنَّهُ أَوْ لَنُعَرِّيَنَّكِ». قَالَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ: فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ حُجْزَتِهَا. وَقَالَ حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ: مِنْ قُبُلِهَا. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ الْحَارِثُ الْأَعْوَرُ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مکہ کی طرف جانے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اصحاب میں سے کچھ افراد کو یہ پیغام دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ کی طرف جانا چاہتے ہیں ان اصحاب میں ایک حضرت حاطب بن ابو بلتعہ رضی اللہ عنہ بھی تھے لوگوں کے سامنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ چیز ظاہر کی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حنین کی طرف جانا چاہتے ہیں راوی بیان کرتے ہیں: توحضرت حاطب رضی اللہ عنہ نے اہل مکہ کو خط لکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمہاری طرف آنے کا ارادہ رکھتے ہیں راوی بیان کرتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس بارے میں پتہ چل گیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اور ابومرثد غنوی کو بھیجا ہمارے ساتھ جوشخص بھی تھا اس کے ساتھ گھوڑا بھی موجو تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فر مایا:تم خاخ نامی باغ میں جاؤ وہاں تمہاری ملاقات ایک عورت سے ہوگی اس کے پاس ایک مکتوب ہوگاتم اس سے لے لینا راوی کہتے ہیں: ہم لوگ روانہ ہوئے یہاں تک کہ ہم نے اس مقام پر اس عورت کو دیکھا جس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا تھا ہم نے اس عورت سے کہا وہ مکتوب ہمیں دواس نے کہا: میرے پاس کوئی مکتوب نہیں ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم نے اس عورت کا سامان اتروایا اس کی تلاشی لی لیکن ہمیں اس کے سامان میں وہ مکتوب نہیں ملا ابومرثد نے کہا: ہوسکتا ہے کہ اس عورت کے پاس مکتوب نہ ہو تو ہم نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غلط بیانی نہیں کی اور نہ ہی ہمارے ساتھ غلط بیانی کی گئی ہے ہم نے اس عورت سے کہا یا توتم اس مکتوب کو نکال دو ورنہ ہم تمہاری جامہ تلاشی لیں گے اس عورت نے کہا: کیاتم لوگ اللہ تعالی سے ڈرتے نہیں ہو کیا تم لوگ مسلمان نہیں ہو؟ ہم نے کہا: تم یا تو اسے نکال دو یا ہم تمہاری جامہ تلاشی لیں گے عمرو بن مرہ نامی نے یہاں یہ الفاظ نقل کیے ہیں کہ اس عورت نے اپنے جوڑے میں سے وہ نکال دیا۔حبیب بن ابوثا بت نامی راوی نے یہاں یہ الفاظ نقل کیے ہیں اس نے اپنے جسم کے آگے والے حصے سے اسے نکال دیا اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے۔(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں): میں یہ کہتا ہوں یہ روایت"صحیح" میں اس سیاق کے بغیر مذکور ہے۔ یہ روایت امام ابویعلی ٰنے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی حارث اعور ہے اور وہ ضعیف ہے۔
عَلِيٍّ،
Hadith 10231
