مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسِّيَرِ] ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَسْرَى] · حديث 10021
10021 - «وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: كَانَتْ قُرَيْشٌ نَاحَتْ قَتْلَاهَا ثُمَّ نَدِمَتْ، وَقَالُوا: لَا تَنُوحُوا عَلَيْهِمْ فَيَبْلُغَ ذَلِكَ مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ ; فَيَشْمَتُوا بِكُمْ، وَكَانَ فِي الْأَسْرَى: أَبُو وَدَاعَةَ بْنُ صُبَيْرَةَ السَّهْمِيُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " إِنَّ لَهُ بِمَكَّةَ ابْنًا تَاجِرًا كَيِّسًا ذَا مَالٍ، كَأَنَّكُمْ قَدْ جَاءَكُمْ فِي فِدَاءِ أَبِيهِ ". فَلَمَّا قَالَتْ قُرَيْشٌ فِي الْفِدَاءِ مَا قَالَتْ، قَالَ الْمُطَّلِبُ: صَدَقْتُمْ، وَاللَّهِ لَئِنْ فَعَلْتُمْ لَيَتَأَرَّبَنَّ عَلَيْكُمْ. ثُمَّ انْسَلَّ مِنَ اللَّيْلِ فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ فَفَدَى أَبَاهُ بِأَرْبَعَةِ آلَافِ دِرْهَمٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں : پہلے قریش ' اپنے مقتولین پر نوحہ کرتے رہے ' پھر وہ ندامت کا شکار ہو ئے پھر انہوں نے یہ کہا : تم ان پر نوحہ نہ کرو! اس بات کی اطلاع حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کو ملی ' تو وہ اس حوالے سے خوش ہو ں گے' راوی بیان کرتے ہیں: قیدیوں میں ایک شخص ابو وداعہ بن صبیرہ سہمی تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مکہ میں اس کا ایک بیٹا ہے ' جو تاجر ہے ' سمجھ دار ہے اور مال دار ہے' وہ اپنے باپ کے فدیے کے سلسلے میں آیا ہی چاہتا ہو گا' جب قریش نے فدیے کے بارے میں اپنے موقف کا اظہار کیا ' تو مطلب نے کہا: تم لوگ ٹھیک کہہ رہے ہو۔ اللہ کی قسم ! اگر تم لوگوں نے ایسا کیا تو وہ لوگ تمہارے خلاف زیادتی کریں گے' پھر وہ رات کے وقت کھسک کر نکال آیا اور مدینہ منورہ آگیا' اس نے اپنے باپ کے فدیے میں چار ہزار درہم ادا کیے۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › Chapter of what came in the captivity] · Hadith 10021
