مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسِّيَرِ] ‹ [بَابُ الْهِجْرَةِ إِلَى الْمَدِينَةِ] · حديث 9913
9913 - وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ: لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ مَعَهُ احْتَمَلَ أَبُو بَكْرٍ مَعَهُ مَالَهُ كُلَّهُ، وَكَانَ خَمْسَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ أَوْ سِتَّةَ آلَافِ دِرْهَمٍ فَانْطَلَقَ بِهَا مَعَهُ، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيْنَا جَدِّي أَبُو قُحَافَةَ، وَقَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ قَدْ فَجَعَكُمْ بِمَالِهِ مَعَ نَفْسِهِ، قَالَتْ: قُلْتُ: كَلَّا يَا أَبَتِ، قَدْ تَرَكَ لَنَا خَيْرًا كَثِيرًا، قَالَتْ: فَأَخَذْتُ أَحْجَارًا فَجَعَلْتُهَا فِي كُوَّةٍ فِي الْبَيْتِ كَانَ أَبِي يَجْعَلُ فِيهَا مَالَهُ، ثُمَّ جَعَلْتُ عَلَيْهَا ثَوْبًا ثُمَّ أَخَذْتُ بِيَدِهِ، فَقُلْتُ: ضَعْ يَا أَبَتِ يَدَكَ عَلَى هَذَا الْمَالِ، قَالَتْ: فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: لَا بَأْسَ إِنْ كَانَ تَرَكَ لَكُمْ هَذَا لَقَدْ أَحْسَنَ، وَفِي هَذَا لَكُمْ بِلَاغٌ، قَالَتْ: وَلَا وَاللَّهِ مَا تَرَكَ لَنَا شَيْئًا، وَلَكِنْ أَرَدْتُ أَنْ أُسْكِنَ الشَّيْخَ بِذَلِكَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ ابْنِ إِسْحَاقَ وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ.
سیدہ اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتی ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے ' آپ کے ساتھ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی نکلے ' حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا سارا مال ساتھ لے لیا' جو پانچ ہزار درہم ' یا شاید چھ ہزار درہم بنتے تھے' وہ اس رقم کو اپنے ساتھ لے گئے' سیدہ اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں: ہمارے دادا حضرت ابو قحافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے' ان کی بینائی رخصت ہو چکی تھی' انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ابو بکر کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ وہ تم لوگوں کو چھوڑ کر سارامال لے کر اپنے ساتھ لے گیا ہوگا' میں نے کہا: ہر گز نہیں! دادا جان انہوں نے ہمارے لئے بہت سے بھلائی چھوڑی ہے' سیدہ اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں؛ میں نے کچھ پتھر لئے اور انہیں گھر میں موجود تھیلی میں ڈال دیا جس میں میرے والد اپنا مال رکھا کرتے تھے' پھر میں نے اس پر کپڑا ڈالا پھر اسے اپنے ہاتھ میں لیا اور میں نے کہا: اے دادا جان آپ اپنا ہاتھ اس مال پر رکھیں ' سیدہ اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتی ہیں انہوں نے اپنا ہاتھ اس مال پر رکھا اور پھر بولے : اگر اس نے تمہارے لئے اتنی رقم چھوڑی ہے' تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں ہے' اس نے یہ اچھا کیا ہے' اس سے تمہاری ضروریات پوری ہو جائیں گی' سیدہ اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتی ہیں : اللہ کی قسم! انہوں نے ہمارے لئے کچھ نہیں چھوڑا تھا' لیکن میں یہ چاہتی تھی کہ اس طرح بزرگوار کو مطمئن کر دوں۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے' امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں' ابن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے' اور اس نے سماع کی صراحت کی ہے۔
أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › [Gate of immigration to the city] · Hadith 9913
