مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسِّيَرِ] ‹ [بَابُ الْهِجْرَةِ إِلَى الْحَبَشَةِ] · حديث 9841
9841 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى النَّجَاشِيِّ، وَنَحْنُ نَحْوٌ مِنْ ثَمَانِينَ رَجُلًا فِيهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، وَجَعْفَرٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُرْفُطَةَ، وَعُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ، وَأَبُو مُوسَى، فَأَتَوُا النَّجَاشِيَّ، وَبَعَثَتْ قُرَيْشٌ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ، وَعُمَارَةَ بْنَ الْوَلِيدِ بِهَدِيَّةٍ، فَلَمَّا دَخَلَا عَلَى النَّجَاشِيِّ سَجَدَا لَهُ، ثُمَّ ابْتَدَرَاهُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، ثُمَّ قَالَا: إِنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِي عَمِّنَا نَزَلُوا أَرْضَكَ، وَرَغِبُوا عَنَّا وَعَنْ مِلَّتِنَا قَالَ: فَأَيْنَ هُمْ؟ قَالَا: هُمْ فِي أَرْضِكَ فَابْعَثْ إِلَيْهِمْ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ، قَالَ جَعْفَرٌ: أَنَا خَطِيبُكُمُ الْيَوْمَ فَاتَّبَعُوهُ، فَسَلَّمَ وَلَمْ يَسْجُدْ، فَقَالُوا لَهُ: مَا لَكَ لَا تَسْجُدُ لِلْمَلِكِ؟ قَالَ: إِنَّا لَا نَسْجُدُ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ إِلَيْنَا رَسُولَهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَمَرَنَا أَنْ لَا نَسْجُدَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَمَرَنَا بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ. قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: فَإِنَّهُمْ يُخَالِفُونَكَ فِي عِيسَى قَالَ: مَا يَقُولُونَ فِي عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ وَأُمِّهِ؟ قَالَ: يَقُولُونَ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: هُوَ كَلِمَةُ اللَّهِ وَرُوحُهُ أَلْقَاهَا إِلَى الْعَذْرَاءِ الْبَتُولِ، الَّتِي لَمْ يَمَسَّهَا، وَلَمْ يَفْتَرِضْهَا وَلَدٌ. قَالَ: فَرَفَعَ عُودًا مِنَ الْأَرْضِ، وَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْحَبَشَةِ الْقِسِّيسِينَ وَالرُّهْبَانِ، وَاللَّهِ مَا يَزِيدُونَ عَلَى الَّذِي نَقُولُ فِيهِ مَا سِوَى هَذَا، مَرْحَبًا بِكُمْ، وَبِمَنْ جِئْتُمْ مِنْ عِنْدِهِ، أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَّهُ الَّذِي نَجِدْهُ فِي الْإِنْجِيلِ، وَأَنَّهُ الَّذِي بَشَّرَ بِهِ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ، انْزِلُوا حَيْثُ شِئْتُمْ، فَوَاللَّهِ لَوْ مَا أَنَا فِيهِ مِنَ الْمُلْكِ لَأَتَيْتُهُ حَتَّى أَكُونَ أَنَا أَحْمِلُ نَعْلَيْهِ وَأُوَضِّئُهُ. وَأَمَرَ بِهَدِيَّةِ الْآخَرِينَ فَرُدَّتْ عَلَيْهِمَا. ثُمَّ تَعَجَّلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ حَتَّى أَدْرَكَ بَدْرًا، وَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَغْفَرَ لَهُ حِينَ بَلَغَهُ مَوْتُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ حُدَيْجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَقَالَ: فِي بَعْضِ حَدِيثِهِ ضَعْفٌ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ کے رسول نے ہمیں نجاشی کی طرف بھیجا ہم تقریبا اسی افراد تھے ان میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے ،حضرت جعفر رضی اللہ عنہ تھے ۔ حضرت عبداللہ بن عرفطہ رضی اللہ عنہ تھے ۔ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ تھے ۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ تھے یہ لوگ نجاشی کے پاس آئے قریش نے عمرو بن العاص اور عمارہ بن ولید کو تحائف کے ہمراہ بھیجا جب یہ دونوں لوگ نجاشی کے پاس آئے تو انہوں نے جناشی کو سجدہ کیا پھر تیزی سے آ کے اس کے دائیں اور بائیں طرف آ گئے پھر ان دونوں نے کہا : ہمارے چچا زاد لوگوں میں سے کچھ لاگ ہیں ، جو آپ کی سر زمین پر آ کر ٹھہرے ہیں وہ ہم سے منہ موڑ چکے ہیں ہمارے دین سے منہ موڑ چکے ہیں نجاشی نے دریافت کیا : وہ کہاں ہیں ؟ ان دونوں نے کہا : وہ آپ کی سر زمین پر رہتے ہیں آپ انہیں پیغام بھیجیں نجاشی نے ان لوگوں کو پیغام بھیجا تو حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے ( اپنے ساتھیوں سے ) کہا آج میں تمہارا خطیب ہوؤں گا پھر وہ لوگ نجاشی کے پاس گئے انہوں نے سلام کیا لیکن سجدہ نہیں کیا درباریوں نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ سے کہا آپ نے بادشادہ کو سجدہ کیوں نہیں کیا انہوں نے جواب دیا : ہم صرف اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں نجاشی نے دریافت کیا : کیا معاملہ ہے ؟ انہوں نے بتایا : اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف اپنے رسول کو مبعوث کیا ہے اور اس نے ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو سجدہ نہ کریں اس نے ہمیں نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا ہے عمرو بن العاص نے کہا : حضرت عیسیٰ کے بارے میں یہ لوگ آپ سے مختلف عقیدہ رکھتے ہیں نجاشی نے کہا : حضرت عیسیٰ بن مریم اور ان کی والدہ کے بارے میں وہ کیا کہتے ہیں : حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے بتایا : وہ یہ کہتے ہیں : جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : وہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ اور اس کی روح تھے جسے اللہ تعالیٰ نے کنواری پاک مریم کی طرف القاء کیا تھا ، جس خاتون کو کسی مرد نے چھوا نہیں تھا اور نہ ہی بچے کی پیدائش ( کسی بشر کے فعل کے نتیجے میں ہوئی تھی ) راوی کہتے ہیں: تو نجاشی نے زمین سے ایک تنکا اٹھایا اور کہا : اے حبشہ کے عبادت گزارہ اور راہبو ۔ اللہ کی قسم ! وہ لوگ اس کے بارے میں اتنا بھی ز یادہ نہیں کہتے جتنی یہ چھڑی ( یا تنکا ) ہے اس سے جو ہم کہتے ہیں ، تم لوگوں کو خوش آمدید اور جن کے پاس سے تم آئے ہو انہیں بھی خوش آمدید ہے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور یہ وہی ہیں جن کا ذکر ہم انجیل میں پاتے ہیں اور یہ وہی ہیں جن کےبارے میں حضرت عیسیٰ بن مریم نے خوشخبری دی تھی تم لوگ جہاں چاہو رہو ۔ اللہ کی قسم ! اگر میری بادشاہی کے معاملات نہ ہوتے تو میں ان کے پاس جا تا یہاں تک کہ میں ان کے جو تے اٹھاتا اور انہیں وضو کرواتا پھر دوسرے لوگوں کے تحفے کے بارے نجاشی نے حکم دیا کہ وہ انہیں واپس کر دیا جائے۔ پھر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حبشہ سے جلدی واپس آ گئے تھے یہاں تک کہ انہیں غزوۂ بدر میں شرکت کا شرف بھی حاصل ہوا ان کا بیان کرنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جب نجاشی کے انتقال کی اطلاع ملی تھی تو آپ نے اس کے لئے دعائے مغفرت کی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حدیج بن معاویہ ہے جسے ابو حاتم نے ثقہ قرار دیا ہے وہ یہ کہتے ہیں : اس کی حدیث میں کچھ ضعف پایا جاتا ہے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
شِمَالِہٖ ثُمَّ ← یَّمِیْنِہٖ ← عُمَارَةَ بْنَ الْوَلِيدِ بِهَدِيَّةٍ فَلَمَّا دَخَلَا عَلَى النَّجَاشِيِّ سَجَدَا لَهُ ثُمَّ ابْتَدَرَاهُ ← بَعَثَتْ قُرَيْشٌ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ← أَبُو مُوسَى فَأَتَوْا النَّجَاشِيَّ ← عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ، ← جَعْفَرٌ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُرْفُطَةَ ← نَحْنُ نَحْوٌ مِنْ ثَمَانِينَ رَجُلًا فِيهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ← بعثنا رسول الله إلى النجاشي ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › [Chapter of migration to Ethiopia] · Hadith 9841
