جبیر بن بفیر بیان کرتے ہیں : ہم لوگ ایک دن حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ہمارے پاس سے ایک شخص گزرا ہم ان کی طرف متوجہ تھے ۔ انہوں نے کہا : ان دونوں آنکھوں کے لئے مبارکباد ہے جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت کی ہے ۔ اللہ کی قسم !ہماری یہ خواہش ہے کہ ہم نے بھی وہ چیز دیکھی ہوتی جو آپ نے دیکھی ہواور ہم بھی اس میں موجود ہوئے ہوتے جس میں آپ موجود رہے، تو حضرت مقداد رضی اللہ عنہ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے : آدمی کو کیا چیز اس بات پر مجبور کرتی ہے کہ وہ وہاں موجود ہونے کی آرزو کرے جہاں سے اللہ تعالیٰ نے اسے غیر موجود رکھا تھا ، کیونکہ وہ توبہ نہیں جانتا کہ اس صورت حال میں اس نے کیا کرنا تھا ۔ اللہ کی قسم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ اقدس میں بہت سے ایسے لوگ تھے جنہیں اللہ تعالیٰ ان کے نتھنوں کے بل جہنم میں اوندھے منہ ڈال دے گا ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بات کو قبول نہیں کیا آپ کی تصدیق نہیں کی کیا تم میں سے کوئی ایک شخص اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان نہیں کرتا کہ تم لوگوں کو صرف تمہارے پروردگار کی معرفت حاصل ہے اور تم اس چیز کی تصدیق کرنے والے ہو جو تمہارے نبی لے کے آئے تھے اور آزمائش میں تمہاری بجائے دوسروں کو مبتلاء کر دیا گیا ۔ اللہ کی قسم ! جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبعوث کیا گیا تو اتنی سخت صورت حال میں کسی اور نبی کو معبوث نہیں کیا گیا تھا نہ زمانہ فطرت میں اور نہ زمانہ جاہلیت میں ، لوگ یہ سمجھتے تھے کہ بتوں کی عبادت سے زیادہ فضیلت والا دن اور کوئی نہیں ہو سکتا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرقان لے کے آئے جس نے حق اور باطل کے درمیان فرق کر دیا باپ اور بیٹے کو الگ کر دیا یہاں تک کہ کوئی شخص اپنےت باپ کو یا اپنے بیٹے کو یا اپنے بھائی کو کافر سمجھتا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کے قفل کو ایمان کے لئے کھول دیا تاکہ وہ یہ بات جان لے کہ پروردگار نے یہ فرمایا ہے ( یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فرمایا ہے ) کہ جو شخص جہنم میں داخل ہوگا وہ ہلاکت کا شکار ہو جائے گا اور اس کی آگ ٹھنڈی نہیں ہو گی اور وہ یہ بھی جان لے کہ اس کا قریبی دوست جہنم میں جائے گا یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے : ( وہ یہ کہتے ہیں : ) اے ہمارے پروردگار ! ہمارے بیویوں اور ہماری اولاد کے حوالے سے ہمیں آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب کر دے"۔ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک سند میں ایک راوی یحیی بن صالح ہے جسے امام ذہبی نے ثقہ قرار دیا ہے محدثین نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › [Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, was conveyed to what was sent, and his patience and patience for that] · Hadith 9817
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد میں موجود تھے ( یعنی خانہ کعبہ کے پاس موجود تھے ) وہاں ابو جہل بن ہشام ، شیبہ ،عتبہ یہ دونوں ربیعہ کے بیٹے ہیں ، عقبہ بن ابو معیط ، امیہ بن خلف اور دو افراد بھی موجود تھے یہ سات افراد تھے اور یہ حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے جب آپ سجدے میں گئے تو آپ نے طویل سجدہ کیا ابو جہل نے کہا : تم کون بنوں فلاں کے اونٹ کے پاس جائے گا ، اور اس کی اوجھ ہمارے پاس لے کے آئے گا ، اور اسے محمد پر ڈال دے گا ، تو ان میں سے سب سے زیادہ بد نصیب عقبہ بن ابو معیط چلا گیا اور اسے لے آیا اور وہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کندھے پر ڈآل دی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت سجدے میں تھے آپ اسے روک نہیں پائے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں اس وقت کھڑا تھا ،ا ور میں کوئی بات بھی نہیں کر سکتا تھا ، کیونکہ میرے پاس وہ حیثیت نہیں ہی تھی کہ میں کچھ کر پاتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے جب اس صورت حال کے بارے میں سنا تو وہ آئیں اور اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کندھے سے ہٹایا پھر وہ قریش کی طرف رخ کر کے انہیں برا کہنے لگیں ان لوگوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو کوئی جواب نہیں دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا جس طرح آپ سجدہ مکمل کرنے کے بعد سر اٹھاتے تھے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز مکمل کر لی تو آپ نے تین مرتبہ یہ فرمایا : اے اللہ ! قریش کو اپنی گرفت میں لے ! عتبہ کو ابو جہل کو شیبہ کو اپنی گرفت میں لے ! پھر آپ مسجد میں تشریف لے گئے ابو بختری کی آپ سے ملاقات ہوئی ابو بختری کے پاس ایک چھڑی تھی جس کو وہ پہلو کے ساتھ لگاتا تھا ۔ جب لنبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس نے دیکھا کہ آپ کے چہرے کی حالت تبدیل ہے ، تو اس نے دریافت کیا : آپ کو کیاہوا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : میرا راستہ چھوڑ دو اس نے کہا : اللہ تعالیٰ یہ بات جانتا ہے کہ میں آپ کو اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک آپمجھے بتاتے نہیں ہیں لگتا ہے آپ کو کوئی پریشانی لاحق ہوئی ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ اندازہ ہو گیا کہ وہ آپ کو یوں نہیں رہنے دے گا ، تو آپ نے اس کو صورت حال کے بارے میں بتا دیا آپ نے بتایا : ابو جہل نے یہ ہدایت کی تو میرے اوپر گندگی لاکے ڈال دی گئی ابو بختری نے کہا : چلیں مسجد کی طرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور بختری تشریف لائے یہ دونوں مسجد میں داخل ہوئے ابو بختری ابو جہل کی طرف گیا اور بولا اے ابو الحکم کیا تم وہ فرد ہو جس نے ( حضرت ) محمد کے بارے میں یہ حکم دیا کہ ان پر گندگی ڈال دی جائے؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ، تو ابو بختری نے چھڑی اٹھا کر اس کے ذریعے ابو جہل کے سر پر ضرب لگائی لوگ ایک دوسرے سے بھڑنے لگے تو ابو جہل نے بلند آواز میں چیخ کر کہا : تمہارا ستیا ناس ہو ! یہ ضرب چھوڑ دو محمد یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے درمیان دشمنی ڈال دیں تاکہ اور اس کے ساتھی نجات پا جائیں ۔
عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › [Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, was conveyed to what was sent, and his patience and patience for that] · Hadith 9818
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا سرت اٹھایا تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا ء بیان کی اور پھر یہ فرمایا اما بعد ! اے اللہ ! قریش کے گروہ پر گرفت کر لے ۔( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، جس میں ابو بختری کا قصہ ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اجلح بن عبداللہ کندی ہے اور وہ یحیی بن معین اور دیگر حضرات کے نزدیک ثقہ ہے ۔امام نسائی اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › [Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, was conveyed to what was sent, and his patience and patience for that] · Hadith 9819
قتادہ بن دعامہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کی شادی عتیبہ بن ابو لہب کے ساتھ اور سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی چادی عتبی بن ابو لہب کے ساتھ ہوئی لیکن ابھی ان خواتین کی رخصتی نہیں ہوئی تھی اس سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت ہو گئی جب اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کی : " ابو لہب کے دونوں ہاتھ برباد ہو جائیں "۔ تو ابو لہب نے اپنے دونوں بیٹوں عتبہ اور عتیبہ سے کہا : اس وقت تک میرا تمہارا تعلق حرام ہو گا جب تک تم محمد کی دونوں صاحبزادیوں کو طلاق نہیں دیتے ان دونوں کی ماں جو حرب بن امیہ کی بیٹی تھی جو گٹھے کو اٹھانے والی تھی ۔ اس نے بھی یہ کہا میرے بیٹے تم انہیں طلاق دے دو کیونکہ ان دونوں نے اپنا دین تبدیل کر لیا ہے ، تو ان دونوں افراد نے ان دونوں صاحبزادیوں کو طلاق دے دی جب عتیبہ نے سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو طلاق دی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا جب کہ وہ اپنی اہلیہ سے علیحدگی اختیار کر چکا تھا اس نے کہا :میں آپ کے دین کا انکار کرتا ہوں اور آپ کی بیٹی سے علیحدگی اختیار کرتا ہوں نہ آپ مجھ سے محبت رکھتے ہیں اور نہ میں آپ سے محبت رکھتا ہوں پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف بڑھا اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قمیص کو چیر دیا پھر وہ تجارت کے سلسلے میں شام کی طرف روانہ ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فرمایا میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا ہوں کہ وہ تم پر اپنے کسی کتے کو مسلط کر دے وہ قریش کے تاجروں کے ساتھ روانہ ہوا تھا یہاں تک کہ انہوں نے شام میں "زرقاء " نامی جگہ پر پڑاؤ کیا اس رات ایک شیر ان کے پاس آیا عتیبہ نے یہ کہنا شروع کیا میری ماں برباد ہو جائے ۔ اللہ کی قسم ! یہ مجھے اسی طرح کھا جائے گا ، جس طرح محمد نے کہا تھا ابن ابو کبشہ جو مکہ میں ہیں اور میں شام میں ہوں وہ مجھے قتل کروا دیں گے پھر تمام لوگوں کے درمیان میں سے اس شیر نے اس پر حملہ کیا اور اس کا سر پکڑ لیا اور اسے چبا کر اسے مار دیا ۔ زہیر بن العلاء بیان کرتے ہیں : ہشام بن عروہ نے اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ اس رات جب شیر نے پہلے ان کا چکر لگایا تو پھر وہ چلا گیا وہ لوگ سو گئے عتیبہ ان لوگوں کے درمیان سویا ہوا تھا پھر درندہ آیا اور لوگوں کو پھلانگ کر آ کر اس نے عتیبہ کا سر پکڑ لیا اور اسے توڑ دیا ۔ اس کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہاکے ساتھ شادی کی ( اور ان کے انتقال کے بعد ) سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اسی طرح " مرسل " روایت کے طور پر نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زہیر بن العلاء ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
قَتَادَةَ بْنِ دِعَامَةَ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › [Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, was conveyed to what was sent, and his patience and patience for that] · Hadith 9820
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ ابو سفیان بن حارث رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سے گزرا تو آپ نے ارشاد فرمایا : اے عائشہ ! تم آگے آؤ میں تمہیں تمہارا وہ چچا زاد دکھاؤں جس نے میری ہجو کی تھی ۔ یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبدالرحمن بن شیبہ سے نقل کی ہے ۔ امام ابو حاتم کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث "صحیح " ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
عَائِشَةَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › [Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, was conveyed to what was sent, and his patience and patience for that] · Hadith 9821
حضرت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میرے والد شدید بیمار ہو گئے انہوں نے کہا : اگراللہ تعالی نے مجھے اس بیماری سے شفاء دے دی تو محمد بن ابو کبشہ کے معبود کی مکہ کی وادی میں کبھی عبادت نہیں کی جائے گی حضرت خالد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تو وہ فوت ہو گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عمرو بن یحیی اموی کا معاملہ مختلف ہے انہوں نے اپنے دادا سے سماع نہیں کیا ہے ۔
خَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › [Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, was conveyed to what was sent, and his patience and patience for that] · Hadith 9822
ابو امیہ طائفی جو حضرت سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہیں وہ بیان کرتے ہیں : میرے دادا نے اپنے دادا حضرت سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت ہوئی تو ان کے دادا ابو احیحہ بیمار ہو گئے انہوں نے اپنی اس بیماری کے دوران کہا تم میرے بستر سے مجھے بلند نہ کرو گے مکہ میں ابن ابو کبشہ کے معبود کی عبادت نہیں کی جائے گی ان کے صاحبزادے جو ان کے سرہانے موجود تھے ۔ انہوں نے کہا : اے اللہ ! تو انہیں نہ اٹھانا ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے اصل میں یہ روایت اسی طرح پائی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔
جده سعيد بن العاص ← جَدِّي، ← أَبِي أُمَيَّةَ الطَّائِفِيِّ مِنْ وَلَدِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › [Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, was conveyed to what was sent, and his patience and patience for that] · Hadith 9823
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قریش نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے ایک دن اکٹھے ہوئے اور انہوں نے کہا : تم لوگ اس بات کا جائزہ لو کہ جو شخص تم میں سے سب سے زیادہ جادو کہانت اور شاعری جانتا ہے وہ ان صاحب کے پاس آئے جنہوں نے ہماری جماعت کو منتشر کر دیا ہے ہمارے معاملے کو بکھیر دیا ہے اور ہمارے دین پر اعتراض کیا ہے اور وہ شخص ان کے ساتھ بات چیت کرے اور پھر اس بات کا جائزہ لے کہ وہ انہیں کیا جواب دیتے ہیں ؟ ان لوگوں نے کہا : ہمارے علم کے مطابق تو یہ خصوصیت عتبہ بن ربیعہ میں پائی جاتی ہے ان لوگوں نے کہا : اے ابو الید تم یہ کام کرو عتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیااور بولا : اے محمد ! تم زیادہ بہتر ہو یا بقیہ رجال ثقہ ہیں تمہارے والد ) عبداللہ ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش رہے اس نے دریافت کیا : تم زیادہ بہتر ہو یا جناب عبدالمطلب ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش رہے اس نے کہا : اگر تم سمجھتے ہو کہ یہ لوگ تم سے بہتر ہیں ، تو یہ انہی معبودوں کے عباد ت کیا کرتے تھے جن پر تم اعتراض کرتے ہو اور اگت تم یہ سمجھتے ہو کہ تم ان سے بہتر ہو ، تو تم بات کرو تاکہ ہم تمہاری بات سنیں ۔ اللہ کی قسم ! ہم نے کبھی کسی ایسی ناراضگی کے بارے میں نہیں دیکھا جو اپنی قوم کے لئے اس سے زیادہ بری ہو جتنی تمہاری طرف سے تمہاری قوم کے لئے ہے تم نے ہماری اجتماعیت کو منتشر کر دیا ہے ہمارے معاملے کو بکھیر دیا ہے ہمارے دین پر اعتراض کیا ہے عربوں میں ہمیں رسوا کر دیا ہے یہاں تک کہ یہ چیز ان کے درمیان پھیل گئی ہے ہے کہ قریش میں ایک جادو گر موجود ہے قریش میں ایک کاہن موجود ہے ۔ اللہ کی قسم ! ہم صرف اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ حاملہ عورت کی طرح کی ایک چیخ آئے اور پھر ہم ایک دوسرے کے مقابلے میں تلوار یں لے کر آ جائیں اور ایک دوسرے کو فنا کر دیں اے فرداگر تمہاری کوئی خواہش ہے ، تو ہم اپنے اموال جمع کر دیتے ہیں یہاں تک کہ تم قریش کے سب سے زیادہ خوشحال فرد بن جاؤ گے اگر تم شادی کرنا چاہتے ہو تو قریش کی کوئی سی خواتین منتخب کر لو ہم دس عورتوں کے ساتھ تمہاری شادی کروا دیں گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : کیا تم فارغ ہو گئے ہو ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ آیات تلاوت کیں ۔"حم ! یہ بڑے مہربان نہایت رحم کرنے والے کی طرف سے نازل کردہ ہے "یہ آیت یہاں تک ہے : " اگر وہ منہ پھیر لیں ، تو تم فرما دو کہ میں تمہیں اس زبردست کڑک دار بجلی کی آواز بقیہ رجال ثقہ ہیں کے عذاب ) سے ڈرتا ہوں جو عاد اور ثمود کے زبر دست کڑک دار بجلی کی آوازبقیہ رجال ثقہ ہیں کے عذاب ) کی مانند ہو گا "۔ تو عتبہ نے کہا : بس کا فی ہے بس کافی ہے آپ کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی بات نہیں ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب دیا : جی نہیں ! عتبہ قریش کے پاس واپس گیا انہوں نے دریافت کیا : کیا صورت حال ہے ؟ تم لوگ ان کے حوالے سے جو باتیں بھی ذکر کرتے تھے میں نے وہ ان کے ساتھ کیں انہوں نے دریافت کیا : انہوں نے پھر تمہیں کیا جواب دیا ؟ عتبہ نے جواب دیا : اس ذات کی قسم ! جی نے تعمیر کو نصب کیا ہے بقیہ رجال ثقہ ہیں یعنی خانہ کعبہ بنایا ہے) انہوں نے جو کچھ کہا مجھے اس میں سے کسی بات کی سمجھ نہیں آئی البتہ انہوں نے یہ کہا تھا : میں تمہیں اس زبردست کڑک دار بجلی کی آواز( کے عذاب ) سے ڈرتا ہوں جو عاد اور ثمود کے زبردست کڑک دار بجلی کی آواز ( کے عذاب) کی مانند ہو گا " ۔انہوں نے کہا : تمہارا ستیا ناس ہو ایک شخص تمہارے ساتھ عربی میں بات چیت کر رہا تھا ، اور تمہیں یہ سمجھ نہیں آئی کہ وہ کیا کہہ رہا تھا ؟ اس نے کہا : اللہ کی قسم ! مجھے ان کی باتوں میں سے کوئی چیز سمجھ نہیں آئی ،صرف"زبردست کڑک دار بجلی کی آواز " کا تذکرہ سمجھ میں آیا ۔ یہ روایت امام ابو یعلیٰ نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی اجلح کندی جسےب یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ امام نسائی اور دیگر حضرات نے ضعیف کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ:
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › [Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, was conveyed to what was sent, and his patience and patience for that] · Hadith 9824
حمید بن منہب بیان کرتے ہیں : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاع ملی کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کو برا کہتے ہیں : تو حضرت ابو معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! وہ شخص اپنے چچا کے بارے میں جو کہتا ہے وہ بری بات ہے لیکن میں عبداللہ کے بارے میں صرف بھلائی کی بات کہوں گا اللہ تعالیٰ کی اس پر رحمت ہو وہ ایک نیک آدمی ہے ایک مرتبہ ابو سفیان نے اپنی اہلیہ ہند کو اپنی سواری کے پیچھے بٹھایا اور شہر سے باہر کی طرف روانہ ہو ئے میں ان دونوں سے آگے چلتا ہوا نکلا میں کمشن تھا میں ایک گدھی پر سوار تھا ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ملے حضرت اب سفیان رضی اللہ عنہ نے کہا : اے معاویہ نیچے اترو تاکہ محمد سوار ہو جائیں میں گدھی سے نیچے اترآیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس پر سوار ہو گئے آپ ان دونوں کے آگے کچھ دیر چلتے رہے پھر آپ دونوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اے ابو سفیان بن حرب اے ہند بنت عتبہ ! اللہ کی قسم ! تم مر جاؤ گے پھر تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے اور پھر نیکی کرنے والا جنت میں داخل ہو گا ، اور برائی کرنے والا جہنم میں داخل ہو گ میں تمہیں ، جو بات کہہ رہا ہوں وہ حق ہے اور تم وہ پہلے لوگ ہو ، جنہیں ڈرایا گیا ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ آیات تلاوت کیں :" حم یہ نہایت مہربان بڑے رحم کرنے والے کی طرف سے نازل کیا گیا ہے "۔ یہ آیات یہاں تک تلاوت کیں " وہ دونوں کہیں گے : ہم اپنی رضا مندی سے آئے ہیں "۔ ابو سفیان نے آپ سے کہا : اے محمد ! کیا آپ فارغ ہو گئے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گدھے سے اتر گئے اور میں اس پر سوار ہو گیا ہند ابو سفیان کی طرف متوجہ ہوئی اور بولی: کیا اس جھوٹے جادو گر کے لئے آپ نے میرے بیٹے کو سواری سے نیچے اتارا تھا ، تو ابو سفیان نے کہا : اللہ کی قسم ! یہ نہ تو جادو گر ہے اور نہ ہی جھوٹا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے حمید بن منہب نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
بَلَغَ مُعَاوِيَةُ ← حُمَيْدُ بْنُ مُنْهِبٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › [Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, was conveyed to what was sent, and his patience and patience for that] · Hadith 9825
حضرت ربیعہ بن عباد دئلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : تم لوگ جو کہتے ہو وہ میں نے سنا ہے کہ قریش نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اذیت پہنچایا کرتے تھے میں نے زیادہ سے زیادہ جو چیز دیکھی ہے وہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گھر ابو لہب کے گھر اور عقبہ بن ابو معیط کے گھر کے درمیان میں تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب گھر واپس آتے تھے ، تو آپ جانوروں کی بچہ دانیاں خون اور گندگی پاتے تھے کہ وہ آپ کے دروازے کے پاس رکھی گئی ہوتی تھیں ، تو آپ اپنی کمان کے کنارے کے ذریعے انہیں ایک طرف کرتے تھے اور یہ فرماتے تھے : اے قریش کے گروہ یہ برا پڑوس ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن علی بن حسین رافقی ہے اور وہ ضعیف ہے قریش کی عداوت کے بارے میں اس کی تائید میں چند روایات نبوت کی علامات سے متعلق باب میں آئیں گی اگر اللہ نے چاہا ۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › [Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, was conveyed to what was sent, and his patience and patience for that] · Hadith 9826
حضرت حارث بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے والد سے دریافت کیا : یہ لوگ کس لئے اکٹھے ہو ئے ہیں ، تو انہوں نے بتایا یہ وہ لوگ ہیں ، جو اپنے میں سے ایک بے دین فرد کے خلاف اکٹھے ہوئے ہیں ۔ راوی کہتے ہیں : ہم نے پڑاؤ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں کو اللہ تعالی کی تو حید اور اس پر ایمان رکھنے کی طرف دعوت دے رہے تھے اور لوگ آپ کی بات کو مسترد کر رہے تھے اور آپ کو اذیت پہنچا رہے تھے یہاں تک کہ دوپہر کا وقت ہو گیاتو لوگ آپ کے پاس سے ہٹ گئے اسی دوران ایک عورت آئی جس کا گلہ ظاہر ہو ریا تھا اس نے ایک پیالہ اور ایک رومال اٹھایا ہوا تھا ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پانی پیش کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے پی لیا وضو کیا ، پھر آپ نے سر اٹھایا اور فرمایا : اے میری بیٹی ! اپنے گلے کو ڈھانپ کے رکھو اور اپنے باپ کے حوالے سے اندیشہ کا شکار نہ ہو ، ہم نے دریافت کیا : یہ کون ہے ؟ تو لوگوں نے بتایا " یہ ان کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
الْحَارِثِ بْنِ الْحَارِثِ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › [Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, was conveyed to what was sent, and his patience and patience for that] · Hadith 9827
حضرت منیب ازدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا آپ یہ فرما رہے تھے : اے لوگو! تم لا الہ الا اللہ پڑھ لو ، تم کامیاب ہو جاؤ گے تو کوئی شخص آپ کے چہرے کی طرف تھوک دیتا تھا کوئی آپ پر مٹی ڈال دیتا تھا کوئی آپ کو برا کہتا تھا یہاں تک کہ دوپہر کا وقت ہو گیا اسی دوران ایک لڑکی ایک بانی کا پیالہ لے کے آئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا چہرہ اور اپنے دونوں ہاتھ دھوئے اور ارشاد فرمایا : اے میری بیٹی ! تم اپنے باپ کے حوالے سے کسی دھوکے یا ذلت کا اندیشہ نہ رکھنا ،میں نے دریافت کیا : یہ کون ہیں ؟ لوگوں نے بتایا : اللہ کے رسول کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں ، وہ اس وقت وجیہہ و شکیل لڑکی تھیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی منیب بن مدرک ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
مُنِيبٍ الأَزْدِيِّ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › [Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, was conveyed to what was sent, and his patience and patience for that] · Hadith 9828