حضرت زیاد بن جمہور رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میرے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے ایک مکتوب آیا جس میں یہ تحریر تھا :" اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے ۔ یہ اللہ کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے زیاد بن جمہور کے نام ہے تم سلامت رہو تم پر سلامتی نازل ہو میں تمہارے سامنے اس اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے صرف ولہی معبود ہے ۔ امام بعد ! میں تمہیں اللہ اور آخرت کے دن کی یاد دلاتا ہوں ۔ اما بعد ! لوگوں نے جس بھی دین کو اختیار کیا ہوا ہے اسلام کے علاوہ ہر ایک دین اٹھا لیا گیا ہے تم یہ بات جان لو"۔ یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
زِيَادِ بْنِ جَهْوَرٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › [Chapter on the primacy of Islam over every religion contrary to it and its appearance against it] · Hadith 9805
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :" مسلمان روم پر غالب آ جائیں گے مسلمان فارس پر غالب آ جائیں گے مسلمان جزیرہ عرب پر غالب آ جائیں گے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
النَّبِيِّ ← سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصِ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › [Chapter on the primacy of Islam over every religion contrary to it and its appearance against it] · Hadith 9806
حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : " عنقریب یہ دین وہاں تک پہنچ جائے گا جہاں تک رات اور دن پہنچتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بقیہ رجال ثقہ ہیں کچے گھروں کی ) ہر بستی اور بقیہ رجال ثقہ ہیں پکے گھرں کے ) ہر میں اس دین کو داخل کر دے گا ، عزت دار کو عزت نصیب ہو گی ذلیل کو ذلت ملے گی عزت ہ ہو گی جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ اسلام اور اہل اسلام کو عزت دے گا ، اور ذلت وہ ہو گی جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کفر کو ذلیل کرے گا ۔حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے یہ بات اپنے اہل خانہ میں پالی تھی جس نے اسلام قبول کیا تھا اسے بھلائی شرف اور عزت نصیب ہوئی اور جو ان میں سے کافر وہ گیا اسے ذلت کمتری اور جزیہ ملا "۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
تَمِيمٍ الدَّارِيِّ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › [Chapter on the primacy of Islam over every religion contrary to it and its appearance against it] · Hadith 9807
حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرما تے ہوئے سنا ہے : " روئے زمین پر کوئی کچا یا پکا گھر ایسا نہیں رہے گا ،جس میں اللہ تعالیٰ اسلام کے کلمے کو داخل نہ کر دے عزت دار کو عزت ملے گی جو لوگ اس کی عزت کریں گے اللہ تعالیٰ انہیں اسلام کی طرف رہنمائی فرمائے گا ، اور جو اس کی تحقیر کریں گے وہ جزیہ ادا کریں گے ۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
مِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › [Chapter on the primacy of Islam over every religion contrary to it and its appearance against it] · Hadith 9808
حضرت عقیل بن ابو طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قریش جناب ابو طالب کے پاس آئے اور بولے : اے جناب ابو طالب آپ کے بھتیجے ہمارے گھروں میں اور ہماری بیٹھکوں میں آتے ہیں اور ہمیں وہ بات سناتے ہیں ، جو ہمیں تکلیف دیتی ہے ، اگر آپ مناسب سمجھیں ، تو آپ انہیں ہمارے پاس آنے سے روک دیں ، تو جناب ابو طالب نے مجھ سے فرمایا : اے عقیل ! میرے بھتیجے کو ڈھونڈ کے لاؤ ! میں جناب ابو طالب کی جگہ سے نکلا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے ساتھ چلتے ہوئے تشریف لائے آپ سایہ تلاش کر کے اس میں چل رہے تھے لیکن وہ نہیں مل رہا تھا یہاں تک کہ آپ جناب ابو طالب کے پاس آ گئے تو جناب ابو طالب نے آپ سے کہا کہ اے میرے بھتیجے ! اللہ کی قسم ! میرے علم کے مطابق تو تم میرے مطاع ہو تمہاری قوم کے لوگ آئے تھے ان کا یہ کہنا تھا کہ تم ان کے گھروں میں اور ان کی بیٹھکوں میں ان کے پاس جاتے ہو اور انہیں وہ چیز سناتے ہو جو انہیں تکلیف دیتی ہے ، تو اگر تم یہ مناسب سمجھو تو اس چیز سے باز آ جاؤ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! مجھے جس چیز کے ہمراہ معبوث کیا گیا ہے میں اسے ترک کرنے کی اس سے زیادہ قدرت نہیں رکھتا کہ آپ میں سے کوئی ایک شخص اس سورج سے آگ کا ایک شعلہ جلا لے ۔ جناب ابو طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میرے بھتیجے نے کبھی جھوٹ نہیں بولا تم لوگ ہدایت پانے والے ہو کر واپس جاؤ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے لفظ کبس کی جگہ لفظ جلس نقل کی ہے اسے امام ابو یعلیٰ نے آغاز میں معمولی سے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔ امام ابو یعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
يَا أَبَا طَالِبٍ ← جاءت قريش إلى أبي طالب ← عقيل بن أبى طالب
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › [Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, was conveyed to what was sent, and his patience and patience for that] · Hadith 9809
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :" قریش اس وقت تک مجھ سے رکے رہے جب تک جناب ابو طالب رضی اللہ عنہ کا انتقال نہیں ہو گیا "۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابو بلال اشعری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
عَائِشَةَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › [Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, was conveyed to what was sent, and his patience and patience for that] · Hadith 9810
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب جناب ابو طالب رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " اے چچا ! مجھے آپ کی غیر موجودگی کتنی جلدی محسوس ہو رہی ہے "۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ایک شخص کے حوالے سے نقل کی ہے ، جو ابن سعید رازی سے ملا تھا امام دار قطنی کہتے ہیں یہ اتنے پائے کا نہیں ہے عیسیٰ بن عبدالسلام سےمیں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › [Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, was conveyed to what was sent, and his patience and patience for that] · Hadith 9811
عروہ بن زبیر نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ میں نے ان سے کہا قریش نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ جو دشمنی کا رویہ رکھا تھا آپ نے جو دیکھا اس میں سب سے زیادہ شدید کیا تھا ، تو حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں ان لوگوں کے پاس موجود تھا ان کے معززین ایک دن حطیم میں موجود تھے۔وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ذکر کرنے لگے انہوں نے کہا ہمیں اس نوجوان سےزیادہ اور کسی پر صبر نہیں کرنا پڑا اس نے ہمارے سمجھ دار لوگوں کو بے وقوف بنا لیا ہے ہمارے آباؤ اجداد کو برا کہتا ہے ہمارے دین پر اعتراض کرتا ہے ہماری اجتماعیت کو منتشر کر چکا ہے ہمارے معبودوں کو بر ا کہتا ہے ہم نے اس کے حوالے سے ایک بڑی چیز کو صبر سے کام لیا ہے یا جس طرح بھی انہوں نے کہا ، ابھی وہ لوگ وہاں موجود تھے اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سامنے سے آتے ہوئے نظر آئے آپ چلتے ہوئے تشریف لائے آپ نے رکن کا استلام کیا پھر بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے ان لوگوں کے پاس سے گزرے جب آپ ان لوگوں کے پاس سے گزرے تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر آوازہ کسا حضرت عبداللہ کہتے ہیں : مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرے سے باگواریت کا احساس ہوا پھر آپ تشریف لے گئے لیکن جب آپ دوسری مرتبہ ان کے پاس سے گزرے تو انہوں نے پھر اس طرح کیا مجھے آپ کےئ چہرے سے ناگواری کا اندازہ ہو گیا لیکن آپ تشریف لے گئے جب آپ تیسری مرتبہ ان کے سامنے سے گزرے اور انہوں نے پھر ایسا ہی کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اے قریش کے گروہ کیا تم لوگ یہ بات سنتے ہو اس ذات ی قسم جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے میں تمہارے پاس ذبح ہونے کا حکم لے کے آیا ہوں ( یعنی تم لوگ مار دیے جاؤ گے ) لوگوں نے آپ کی بات سنی تو یہ عالم ہوا کہ ہر شخص کے سر پر گویا پرندہ بیٹھا ہوا ہے ، یہاں تک کہ جو شخص پہلے پ کے خلاف بڑھ چڑھ کر بول رہا تھا اس نے بھی اچے طریقے سے آپ کے ساتھ بات چیت کی اور یہ کہا کہ اے ابو القاسم آپ تشریف لے جائیں آپ آرام سے تشریف لے جائیں ۔ اللہ کی قسم! آپ تو اتنی سختی کا مظاہرہ کرنے والے نہیں تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے گئے ، یہاں تک کہ جب اگلا دن آیا وہ لوگ حطیم میں اکٹھے ہوئے تو میں ان لوگوں کے ساتھ تھا ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا تمہیں یاد ہے ، جو تمہاری طرف سے گیا اور جو ان کی طرف سے تم تک آیا ؟ یہاں تک کہ انہوں نے تمہارے سامنے وہ چیز ظاہر کی جو تمہیں ناپسند ہے ، تو تم نے انہیں چھوڑ دیا ابھی وہ اسی عالم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے سامنے تشریف لائے وہ اکٹھے اٹھ کت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف گئے ، اور آپ کے ارد گرد ہو کر یہ کہنے لگے آپ نے ہی یہ یہ بات کہی ہے انہوں نے ان چیزوں کا ذکر کیا ہے جو ان کے معبودوں اور ان کے دین پر اعتراض کے حؤالے سے ان تک پہنچی تھیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں میں یہ بات کہی ہے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی چادر کو پکڑ لیا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے کھڑے تھے۔ وہ لڑتے ہوئے یہ کہہ رہے تھے کیا تم ایک ایسے شخص کے ساتھ جھگڑا کر رہے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے پھر وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو چھوڑ کر چلے گئے قریش کی طرف سے یہ سب سے زیادہ سختی تھی جو میں نے دیکھی تھی ۔(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : "صحیح" میں اس کا ایک حصہ منقول ہے۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ابن اسحاق نے سماع کی صراحت کی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › [Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, was conveyed to what was sent, and his patience and patience for that] · Hadith 9812
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے قریش کو کبھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارادہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا البتہ اس دن کا معاملہ مختلف ہے جب انہوں نے اس بارے میں باہمی طور پر مشورہ کیا وہ اس وقت خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مقام ابراہیم کے پاس نماز ادا کر رہے تھے عقبہ بن ابو معیط اٹھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف گیا اس نے اپنی چادر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گلے میں ڈالی اور پھر اسے کھینچا یہاں تک کہ آپ گھٹنوں کے بل جھک گئے وہ لوگ چیخیں مارنے لگے وہ یہ سمجھے کہ آپ شہید ہو گئے اسی دوران حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے آئے اور انہوں نے پیچھے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پہلو سے پکڑ لیا ، وہ یہ کہہ رہےتھے : کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو ؟ جو یہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے پھر وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو چھوڑ کر پیچھے ہو گئے ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوئے جب آپ نے نماز مکمل کر لی تو آپ ان کے پاس سے گزرے وہ لوگ اس وقت خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا : اے قریش کے گروہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے مجھے تم لوگوں کی طرف صرف ذبح کے ہمراہ بھیجا گیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دست مبارک کے ذریعے حلق کی طرف اشارہ کر کے یہ بات کہی ابو جہل نے آپ کی خدمت میں گزارش کی : اے محمد ! آپ تو سختی کرنے والے نہیں تھے ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم ان لوگوں میں سے ایک ہو ( جنہیں ذبح کیا جائے گا )۔ یہ روایت امام ابو یعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو بن علقمہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔ امام طبرانی کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › [Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, was conveyed to what was sent, and his patience and patience for that] · Hadith 9813
سیدہ اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے لوگوں نے ان سے کہا آپ نے سب سے زیادہ شدید چیز کیا دیکھی جو مشرکین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تکلیف پہنچائی ہو ؟ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے بتایا : مشرکین مسجد ( یعنی خانہ کعبہ کے پاس ) بیٹھے ہوئے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ذکر کر رہے تھے اور اس بات کا ذکر کر رہے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے معبودوں کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ ابھی وہ اسی عالم تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسی دوران تشریف لے آئے وہ سب اٹھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف گئے کسی نے بلند آواز میں آ کے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو کہا آپ اپنے آقا کے پاس پہنچیں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ہمارے پاس سے نکلے ان کی چار لٹیں تھیں ، اور وہ یہ کہہ رہے تھے : تم لوگوں کا ستیا ناس ہو کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو یہ کہتا ہے میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اور وہ تمہارے پاس پروردگار کی طرف سے واضح نشانیاں لے کے آیا ہے ، تو ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو چھوڑ دیا اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طرف رخ کر لیا سیدہ اسما رضی اللہ عنہا کہتی ہیں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے ، تو ان کا یہ عالم تھا کہ وہ اپنے بالوں میں سے جس کو بھی مس کرتے تھے ۔ وہ ساتھ آجاتا تھا ، اور وہ یہ کہہ رہے تھے : اے جلال اور اکرام والے ! تو برکت والا ہے ۔ یہ روایت امام ابو یعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی تدروس ہے جو ابو زبیر کا دادا ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › [Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, was conveyed to what was sent, and his patience and patience for that] · Hadith 9814
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مارا یہاں تک کہ آپ بے ہوش ہو گئے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر بلند آواز میں یہ کہنے لگے تم لوگوں کا ستیا ناس ہو کیاتم ایک ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو یہ کہتا ہے : میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے لوگوں نے کہا : یہ کون ہے ؟ دوسروں نے بتایا : یہ ابو بکر مجنون ہے ۔ یہ روایت امام ابو یعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو چھوڑ دیا اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طرف آ گئے ۔۔۔۔ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › [Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, was conveyed to what was sent, and his patience and patience for that] · Hadith 9815
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں ایک قریب البلوغ لڑکا تھا اور عقبہ بن معیط کی بکریاں چرایا کرتا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے یہ دونوں حضرات مشرکین سے بچ کے آ رہے تھے ان دونوں نے کہا : اے لڑکے ! کیا تمہارے پاس دودھ ہے، جو تم ہمیں پینے کے لئے دو ؟ میں نے کہا : میں امین ہوں ، میں آپ دونوں کو نہیں پلاؤں گا ۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابو یعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › [Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, was conveyed to what was sent, and his patience and patience for that] · Hadith 9816