مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسِّيَرِ] ‹ [بَابُ فَتْحِ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ وَرُومِيَّةَ] · حديث 10387
10387 - وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَكُونَ رَابِطَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِبُولَانَ، يَا عَلِيُّ "، قَالَ الْمُزَنِيُّ: يَعْنِي عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: " اعْلَمْ أَنَّكُمْ سَتُقَاتِلُونَ بَنِي الْأَصْفَرِ، وَيُقَاتِلُهُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَيْهِمْ رَوْقَةُ الْمُسْلِمِينَ أَهْلُ الْحِجَازِ الَّذِينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، لَا تَأْخُذُهُمْ فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ حَتَّى يَفْتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ قُسْطَنْطِينِيَّةَ وَرُومِيَّةَ بِالتَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ، فَيَهُدُّوا حِصْنَهُمَا، وَيُصِيبُوا مَالًا عَظِيمًا لَمْ يُصِيبُوا مِثْلَهُ قَطُّ، حَتَّى يَقْتَسِمُوا بِالتِّرْسَةِ. ثُمَّ يَصْرُخُ صَارِخٌ: يَا أَهْلَ الْإِسْلَامِ، قَدْ خَرَجَ الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ فِي بِلَادِكُمْ وَذَرَارِيِّكُمْ، فَيَنْقَبِضُ النَّاسُ عَنِ الْمَالِ، فَمِنْهُمُ الْآخِذُ، وَمِنْهُمُ التَّارِكُ، فَالْآخِذُ نَادِمٌ، وَالتَّارِكُ نَادِمٌ، ثُمَّ يَقُولُونَ: مَنْ هَذَا الصَّارِخُ؟ وَلَا يَعْلَمُونَ مَنْ هُوَ، فَيَقُولُونَ: ابْعَثُوا طَلِيعَةً إِلَى لُدٍّ، فَإِنْ يَكُنِ الْمَسِيحُ قَدْ خَرَجَ فَسَيَأْتِيكُمْ بِعِلْمِهِ، فَيَأْتُونَ فَيُبْصِرُونَ وَلَا يَرَوْنَ شَيْئًا، وَيَرَوْنَ النَّاسَ سَاكِتِينَ، فَيَقُولُونَ: مَا صَرَخَ الصَّارِخُ إِلَّا إِلَيْنَا، فَاعْتَزِمُوا ثُمَّ ارْشُدُوا، فَنَخْرُجُ بِأَجْمَعِنَا إِلَى لُدٍّ، فَإِنْ يَكُنْ بِهَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ نُقَاتِلْهُ حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ، وَإِنْ يَكُنِ الْأُخْرَى فَإِنَّهَا بِلَادُكُمْ، وَعَشَائِرُكُمْ وَعَسَاكِرُكُمْ رَجَعْتُمْ إِلَيْهَا». قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَحَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثَهُ.
حضرت عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمانوں کا رابطہ بولان نامی جگہ پرنہیں ہوگا اے علی ! مزنی نامی راوی کہتے ہیں: اس سے مراد حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ تھے انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں حاضر ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم یہ بات جان لو کہ تم لوگ بنو اصفر کے ساتھ عنقریب جنگ کرو گے اور تم لوگوں کے بعد اہل ایمان ان لوگوں کے ساتھ جنگ کریں گے پھر مسلمانوں کے کچھ لوگ جن کاتعلق اہل حجاز سے ہوگا وہ نکل کر ان کی طرف چلے جائیں گے یہ وہ لوگ ہوں گے جواللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوں گے اللہ تعالی کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت انہیں گرفت میں نہیں لے گئی یہاں تک کہ اللہ تعالی ان کے لیے قسطنطنیہ اور رومیہ کو فتح کر د ے گا جو تسبیح اور تکبیر کے ذریعے ہوگا وہ لوگ ان دونوں علاقوں کے قلعوں کومنہدم کر دیں گئے اور وہاں سے بہت سا مال انہیں ملے گا اس طرح کا مال پہلے انہیں کبھی نہیں ملا ہوگا یہاں تک کہ وہ ڈھال تک تقسیم کرلیں گے پھر کوئی شخص پکار کر کہے گا اے اہل اسلام تمہارے علاقوں میں اور تمہارے بال بچوں میں دجال نکل آیا ہے تو لوگ اس مال کو چھوڑیں گے کچھ اس مال کو لے لیں گے اور کچھ اس مال کو چھوڑ دیں گے تو جو لے گاوہ ندامت کا شکار ہوگا اور جو چھوڑ د ے گاوہ بھی ندامت کا شکار ہوگا پھر وہ یہ کہیں گے بیچنے والا شخص کون ہے وہ لوگ نہیں جانتے ہوں گے کہ وہ کون ہو گا پھر وہ کہیں گے کہ تم مقام لد کی طرف کی جاسوس کو بھیجوا گر تو دجال نکل چکا ہوا تو تمہیں اس کے بارے میں اطلاع مل جائے گی پھر وہ لوگ آئیں گئے اور اس کو دیکھیں گے تو وہاں کوئی چیز نظر نہیں آ ئے گی وہ لوگوں کو دیکھیں گے کہ وہ خاموش ہوں گے تو وہ کہیں گے کہ چیخنے والے نے صرف ہماری طرف متوجہ ہو کر چیخ ماری تھی تو تم لوگ پختہ ہو جاؤ اور ہدایت پر ہو ہم سب نکل کر لد کی طرف جاتے ہیں اگر وہاں دجال موجود ہوا تو ہم اس کے ساتھ جنگ کریں گے یہاں تک کہ الله تعالی ہمارے اور اس کے درمیان فیصلہ کر دے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے اور اگر صورت حال مختلف ہوئی تو تمہارا علاقہ ہے اور تمہارا خاندان ہے تمہارے لشکر ہیں تم ان کی طرف واپس چلے جاؤ گے۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں: میں یہ کہتا ہوں نہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبد اللہ ہے۔ جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے۔ امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔
لَبیَّکَ ← الْمُزَنِيُّ: يَعْنِي عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، ← «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَكُونَ رَابِطَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِبُولَانَ، يَا عَلِيُّ ← النَّبِيِّ ← وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › [The door to Fath, Constantinople and Roumieh] · Hadith 10387
