مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسِّيَرِ] ‹ بَابٌ فِي سَرِيَّةٍ إِلَى بِلَادِ طَيِّءٍ] · حديث 10351
10352 - عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: «جَاءَتْ خَيْلُ رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. أَوْ قَالَ: رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا بِعَقْرَبٍ، فَأَخَذُوا عَمَّتِي وَنَاسًا. قَالَ: فَلَمَّا أَتَوْا بِهِمْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالُوا: فَصَفُّوا لَهُ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَأَى الْوَافِدُ، وَانْقَطَعَ الْوَالِدُ، وَأَنَا عَجُوزٌ كَبِيرَةٌ مَا بِي خِدْمَةٌ، فَمُنَّ عَلَيَّ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْكَ. قَالَ: " وَمَنْ وَافِدُكِ؟ ". قَالَتْ: عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ قَالَ: " الَّذِي فَرَّ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمِنْ رَسُولِهِ ". قَالَتْ: فَمَنَّ عَلَيَّ، قَالَ: فَلَمَّا رَجَعَ وَرَجُلٌ إِلَى جَنْبِهِ - تَرَى أَنَّهُ عَلِيٌّ - قَالَ: سَلِيهِ حِمْلَانًا، فَسَأَلَتْهُ، فَأَمَرَ لَهَا. [فَقَالَتْ: فَأَتَتْنِي] فَقَالَتْ: لَقَدْ فَعَلْتَ فَعْلَةً مَا كَانَ أَبُوكَ يَفْعَلُهَا، قَالَتْ: ائْتِهِ رَاغِبًا أَوْ رَاهِبًا فَقَدْ أَتَاهُ فُلَانٌ فَأَصَابَ مِنْهُ وَأَتَاهُ فُلَانٌ فَأَصَابَ مِنْهُ، فَأَتَيْتُهُ فَإِذَا عِنْدَهُ امْرَأَةٌ وَصِبْيَانٌ - أَوْ صَبِيٌّ - فَذَكَرَ قُرْبَهُمْ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَرَفْتُ أَنَّهُ لَيْسَ مَلِكَ كِسْرَى وَلَا قَيْصَرَ. فَقَالَ لَهُ: " يَا عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ، مَا أَفَرَّكَ؟ أَنْ تَقُولَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟ فَهَلْ مِنْ إِلَهٍ إِلَّا اللَّهُ؟ مَا أَفَرَّكَ أَنْ يُقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، فَهَلْ شَيْءٌ هُوَ أَكْبَرُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؟ ". فَأَسْلَمْتُ، فَرَأَيْتُ وَجْهَهُ اسْتَبْشَرَ. وَقَالَ: " إِنَّ الْمَغْضُوبَ عَلَيْهِمُ الْيَهُودُ، وَإِنَّ الضَّالِّينَ النَّصَارَى ". ثُمَّ سَأَلُوهُ فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ، أَيُّهَا النَّاسُ فَلَكُمْ أَنْ تَرْضَخُوا مِنَ الْفَضْلِ، أَرْضَخَ امْرِؤٌ بِصَاعٍ بِبَعْضِ صَاعٍ، بِقَبْضَةٍ بِبَعْضِ قَبْضَةٍ ". قَالَ شُعْبَةُ: وَأَكْبَرُ عِلْمِي أَنَّهُ قَالَ: " بِتَمْرَةٍ بِشِقِّ تَمْرَةٍ. وَأَنَّ أَحَدَكُمْ لَاقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَقَائِلٌ مَا أَقُولُ: [أَلَمْ أَجْعَلْكَ سَمِيعًا بَصِيًرا]؟ أَلَمْ أَجْعَلْ لَكَ مَالًا وَوَلَدًا فَمَاذَا قَدَّمْتَ؟ فَيَنْظُرُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ فَلَا يَجِدُ شَيْئًا [فَمَا] يَتَّقِي النَّارَ إِلَّا بِوَجْهِهِ، فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ ; فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَبِكَلِمَةٍ لَيِّنَةٍ، إِنِّي لَا أَخْشَى عَلَيْكُمُ الْفَاقَةَ، لَيَنْصُرَنَّكُمُ اللَّهُ، أَوْ لَيُعْطِيَنَّكُمُ اللَّهُ، أَوْ لَيَفْتَحَنَّ لَكُمْ حَتَّى تَسِيرَ الظَّعِينَةُ بَيْنَ الْحِيرَةِ وَيَثْرِبَ أَوْ أَكْثَرَ مَا تَخَافُ السَّرَقَ عَلَى ظَعِينِهَا» ". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عِمَادِ بْنِ حُبَيْشٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَ لِعَدِيٍّ حَدِيثٌ أَبْيَنُ مِنْ هَذَا فِي الْمَنِّ عَلَى الْأَسِيرِ فِي كِتَابِ الْجِهَادِ.
حضرت ابودرد اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک خاتون کے ساتھ شادی کی وہ اس خاتون کے مہر کے سلسلے میں مدد لینے کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت کیا تم نے کتنا مہر طے کیا ہے؟ میں نے عرض کی : دو سو درہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشادفرمایا: اگر تم اپنی اس وادی میں موجودتمام درہم بھی ان عورتوں کو دےدوتو یہ زیا دہ ادا ئیگی نہیں ہوئی لیکن ابھی میرے پاس تمہیں دینے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں: کچھ دیر گزرنے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بلوایا اور ایک جنگی مہم میں بجھوایا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں نجد کی سمت بجھوایا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فر ما یا : تم اس مہم میں جاؤ ہوسکتا ہے تمہیں کوئی ایسی چیزمل جائے جو میں تمہیں انعام کے طور پر دیدوں راوی کہتے ہیں : ہم لوگ نکلے یہاں تک کہ شام ہوئی جب رات کا ابتدائی حصہ رخصت ہو گیا تو ہمارے امیر نے ہمیں دو دو کر کے بھیجنا شروع کیا ہم نے لشکر کوگھیرلیا امیر نے کہا: جب میں تکبیر کہوں اور حملہ کروں تو تم بھی تکبیر کہہ کر حملہ کر دینا۔ راوی کہتے ہیں : جب انہوں نے ہمیں دو دو کر کے بھیجا تو انہوں نے کہا: تم ایک دوسرےسے جدا نہ ہونا اور تم دونوں میں سے کوئی چیز پانے والے شخص سے میں ہر گز اس کے ساتھی کے بارے میں کوئی در یافت نہ کروں اور پھر یہ نہ ہو کہ اس کے پاس کوئی اطلاع ہی نہ ملنے اور تم (دشمن یا مال غنیمت کی طلب میں کھو نہ جانا )راوی کہتے ہیں: جب ہم نے حملہ کرنے کا ارادہ کیا تو میں نے وہاں موجود ایک شخص کو سنا جو کہہ رہا تھا اے سبز ہ راوی کہتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوا کہ وہاں سے سبزہ ملے گا جب رات ہوئی تو ہمارے امیر نے تکبیر کہیں ہم نے بھی تکبیر کہی اور حملہ کر دیا پھر میرے پاس سے ایک شخص گزرا جس کے ہاتھ میں تلوار موجودتھی میں نے اس کا پیچھا کیا میرے ساتھی نے مجھ سے کہا ہمارے امیر نے ہم سے یہ عہد لیا تھا کہ تم لوگوں نےدشمن کا پیچھا کرتے ہوئے زیادہ آگے نہیں جانا تم واپس آجاؤ لیکن میں نے یہ بات نہیں مانی اور دشمن کے پیچھے چلا گیا تو میرے ساتھی نے کہا: اللہ کی قسم میں امیر کے پاس ضرور واپس جا کر اسے یہ بات بتاؤں گا کہ تم نے یہ بات نہیں مانی راوی کہتے ہیں میں نے کہا: اللہ کی قسم میں ضرور اس کا پیچھا کروں گا میں نے اس کا پیچھا کیا یہاں تک کہ جب میں اس کے قریب ہوا تو میں نے اسے تیر مارا جو اس کے جسم پر لگا تو وہ گر گیا اس نے کہا: اے مسلمان جنت کے قریب ہوجاؤ جب اس نے مجھے دیکھا کہ میں ان کے قریب نہیں ہورہا تو میں نے اسے ایک اور تیر مارا اور اسے زخمی کر دیا اس نے مجھے تلوار ماری وہ مجھے نہیں لگی میں نے تلوار پکڑی او ر اس کے ذریعے اسے قتل کردیا اور اس کے ذریعے اس کا سر اتار دیا اور اسے باندھ دیا ہاں میں مال غنیمت میں بہت سے جانور اور بہت سی بکریاں ملیں پھر ہم واپس آگئے جب صبح ہوئی تو میرے اونٹ کے پاس ایک خوبصورت نوجوان عورت موجودتھی وہ عورت اپنے پیچھے دیکھتی تھی اور بکثرت پیچھے دیکھ رہی تھی میں نے اس سے دریافت کیا تم کیا دیکھ رہی ہو؟ اس نے کہا: میں ایک شخص کو دیکھ رہی ہوں اللہ کی قسم اگر وہ زندہ ہوتا تو تم سے مل جا تا راوی کہتے ہیں : مجھے یہ اندازہ ہوا کہ یہ وہی شخص ہوگا جسے میں نے قتل کیا تھا تو میں نے کہا: اللہ کی قسم میں تو اسے قتل کر چکا ہوں اور یہ اس کی تلوار ہے اس کی تلوار اونٹ کے پالان کے ساتھ کی ہوئی تھی جس اونٹ پر میں موجودتھا راوی کہتے ہیں لیکن پھر اونٹ کے پالان کے ساتھ جو میان لٹکی ہوئی تھی اس میں تلوار مو جود نہیں ملی جب میں نے اس عورت سے یہ بات کہی تو اس نے کہا: تم اس میدان کو سونگھ لینے دو اگر تم سچے ہو راوی کہتے ہیں : اس عورت نے اس کو پکڑا اور اسے سونگھا تو اسے اندازہ ہو گیا جب اس نے یہ صورت حال دیکھی تو وہ رونے لگی راوی کہتے ہیں : جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم . کے پاس آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان اونٹوں میں سے مجھے بھی عطا کیا جو ہم لے کے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے تھے۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے۔ اس روایت سے بھی رجال ثقہ ہیں۔
فَصَفُّوا لَهُ، ← فَلَمَّا أَتَوْا بِهِمْ رَسُولَ اللَّهِ ← رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ وَأَنَا بِعَقْرَبٍ فَأَخَذُوا عَمَّتِي وَنَاسًا ← جَاءَتْ خَيْلُ رَسُولِ اللَّهِ أَوْ ← عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › A door in secrecy into a treacherous country] · Hadith 10351
