مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسِّيَرِ] ‹ بَابٌ فِي يَوْمِ الرَّجِيعِ] · حديث 10339
10340 - وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ فِي تَسْمِيَةِ مَنْ قُتِلَ يَوْمَ الرَّجِيعِ: مَرْثَدُ بْنُ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيُّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں: حضرت خبیب بن عدی بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ ، جن کا تعلق بنوعمرو بن عوف ہے ہے اور حضرت عاصم بن ثابت بن ابواقلح بن عمرو بن عوف اور حضرت زید بن دثنہ انصاری رضی اللہ عنہ جن کا تعلق بنو بیاضہ سے ہے ان لوگوں کا واقعہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں مکہ میں جاسوسی کے لئے بھیجا تھا تا کہ وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قریش کے بارے میں اطلاعات پہنچا ئیں یہ لوگ نجدیہ کے راستے پر چلتے ہوئے نجد کے مقام رجیع تک پہنچے تو بنولیحان قبیلے کے لوگ جو ہذیل قبیلے کی شاخ ہے وہ انکے سامنے آ گئے عاصم بن ثابت نے اپنی تلوار کے ذریعے مقابلہ کیا۔ یہاں تک کہ وہ شہید ہو گئے۔ حضرت خبیب اور حضرت زید بن دشنہ پہاڑ پر چڑھ گئے لوگ ان تک نہیں پہنچ سکتے تھے یہاں تک کہ ان لوگوں نے ان حضرات کے ساتھ یہ کہ کیا کہ وہ انہیں کچھ نہیں کہیں گے ) تو یہ دونوں حضرات نے اتر کر ان کے پاس آگئے ان لوگوں نے ان دونوں حضرات کو باندھ دیا پھر وہ ان دونوں کو لے کے مکہ آگئے اور ان دونوں کوقریش کے ہاتھ فروخت کر دیا جہاں تک حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کا تعلق ہے تو عقبہ بن حارث نے انہیں خریدلیا ان کی خریداری میں ابوا ہاب بن عزیز بن قیس بن سوید بن ربیعہ بن عدی بن عبداللہ بن دارم بھی ان کا شراکت دار بنا قیس بن سوید بن ربیہ اصل میں عامر بن نوفل کاماں کی طرف شریک بھائی تھا ان دونوں کی ماں نہشل کی بیٹی تھی او ر تمیمیہ تھی عکرمہ بن ابوجہل اور خنس بن شرنون بن علاج بن مغیر ثقفی اور عبیدہ بن حکیم سلمی ثم ذکوانی اور امیہ بن ابوعتبہ بن ہمام بن حفظ جسکا تعلق بنودارم سے ہے اورحضری کے بیٹوں نے اورسعیہ بن عبد الله بن ابو قیس نے جس کا تعلق بنو عامر بن لؤی سے ہے اور صفوان بن امیہ بن خلف بن وہبی نے (اس خریداری میں حصہ لیا ) ان لوگوں نے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو عقبہ بن حارث کے حوالے کردیا عقبہ نے انہیں اپنے گھر میں قید کر دیا جتنا عرصہ اللہ کومنظور تھاوہ اس کے گھر میں رہے عقبہ بن حارث بن عامر کے خاندان سے تعلق رکھنے والی ایک عورت ان کے قید خانے کا دروازہ کھول کر انہیں کھانا دیا کرتی تھی انہوں نے اس عورت سے کہا کہ جب یہ لوگ مجھے قتل کرنے کا ارادہ کر میں تو تم مجھے اس بارے میں پہلے بتادیا جب ان لوگوں نے انہیں قتل کرنے کا ارادہ کیا اور اس عورت نے انہیں بتا دیا تو انہوں نے فرمایا: تم مجھے کوئی استرالا دوتا کہ میں اس کے ذریعے زیر ناف بال صاف کرلوں (اس عورت نے انہیں استرالا دیا ) اسی دوران اس عورت کا بیٹا ان کے کمرے میں آ گیا استراان کے ہاتھ میں تھا۔ انہوں نے اس بچے کا ہاتھ پکڑا اور پھر بولے کیا میں تمہیں نقصان پہنچاؤں اس عورت نے کہا: آپ کے بارے میں میرا یہ گمان نہیں ہے پھر انہوں نے استرااس عورت کو پکڑایا اور فرمایا: میں تو مذاق کر رہا تھا جن لوگوں نے مل جل کر انہیں خریدا تھا وہ انہیں ساتھ لے کر نکلے ان لوگوں کے ساتھ اہل مکہ بھی نکلے وہ لوگ اپنے ساتھ ایک لکڑی لے کر گئے۔ یہاں تک تنعیم کے مقام پر انہوں نے اس لکڑی کو زمین میں گاڑ دیا اور اس لکڑی پرا نہیں مصلوب کرد یا عقبہ بن حارث نے انہیں قتل کیا تھا ابوالحسین کمسن تھے اور لوگوں کے ساتھ تھے عقبہ نے انہیں حارث بن عامر کے بدلے میں قتل کیا تھا جو غزوہ بدر کے موقع پر کافر ہونے کے عالم میں قتل ہوا تھا۔ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے قتل ہونے کے وقت ان سے کہا تم لوگ مجھے کھول دوتا کہ میں پہلے دو رکعت ادا کر دوں ان لوگوں نے انہیں کھول دیا انہوں نے مختصر رکعت ادا کیں اور نا مکمل کر لی پھر انہوں نے فرمایا : اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ تم یہ سمجھوگے کہ شاید میں موت کے خوف کی وجہ سے ایسا کر رہا ہوں تو میں نے یہ دورکعت طویل ادا کرنی تھیں لیکن اسی وجہ سے میں نے انہیں مختصر ادا کیا ہے پھر انہوں نے کہا: اے اللہ مجھے اپنے سامنے صرف دشمن نظر آ رہا ہے اے اللہ مجھے ایسا کوئی قاصد نہیں ملتا جو تیرے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک بھیجا جا سکے تو انہیں میری طرف سے سلام پہنچا دینا حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس بارے میں بتایا جب حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو ان لوگوں نے لکڑی پر بلند کیا تو حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ تو ان لوگوں کو گن لے اور انہیں قتل کرواددینا ان میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑناراوی کہتے ہیں : حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو ان مشرکین کے بیٹوں نے شہید کیا جو مشرکین غزوہ بدر میں مارے گئے تھے جب ان لوگوں نے ان کی طرف ہتھیار بڑھائے اور جب انہیں مصلوب کیا جا چکا تھا تو انہوں نے بلند آواز میں پکا کر ان سے کہا کہ کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ حضرت محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) تمہاری جگہ ہوتے تو حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے کہا: جی نہیں عظیم اللہ کی قسم مجھے تو یہ بات بھی پسند نہیں ہے کہ میری جان کے بدلے میں ان کے پاؤں میں کوئی کا نٹا بھی چبھ جائے تو وہ لوگ ہنسنے لگے جب ان لوگوں نے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کولکڑی پر بلند کیا تو حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار پڑھے:”(دشمن کے) گروہ میرے گردہ اکٹھے ہو گئے ہیں انہوں نے اپنے قبائل کو جمع کر لیا ہے اور ہر قسم کا مجمع اکٹھا کر لیا ہے انہوں نے اپنے بیٹوں اور عورتوں کو اکٹھا کر لیا اور مجھے کھجور کی ایک مضبوط شاخ کے قریب کر دیا ہے میں اپنی غریب حب الوطنی اور اپنی پریشانی اور ان لوگوں نے میرےقتل کے لیے جو کچھ تیار کیا ہے ان سب کے حوالے سے میں اللہ تعالی ہی کی بارگاہ میں فریاد کرتا ہوں اے عرش والی ذات تو مجھے اس چیز کے حوالے سے صبر عطا فرما جو یہ لوگ میرے بارے میں ارادہ رکھتے ہیں کہ یہ میرے گوشت کے ٹکڑے کر دے اور ( بچنے کی ) میری توقع ختم ہو چکی ہے اور یہ سب کچھ اس معبود کی راہ میں ہورہا ہے کہ اگر وہ چاہے تو میرے جسم کے مردہ ٹکڑوں میں بھی برکت ڈال دے مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے اگر میں مسلمان ہونے کے عالم میں مرتا ہوں تو مجھے اس بات کی کوئی پروا نہیں ہےکہ اللہ تعالی مجھے کس حال میں موت دیتا ہے۔جہاں تک حضرت زید بن دثنہ کا تعلق ہے تو صفوان بن امیہ نے انہیں خرید لیا تھا اس نے اپنے باپ امیہ بن خلف کے عو ض میں انہیں قتل کیا بنو جمح کے غلام نیطاس نے انہیں قتل کیا تھا ان دونوں حضرات کو تنعیم کے مقام پر قتل کیا گیا تھا عمرو بن امیہ نے حضر ت خبیب رضی اللہ عنہ کو دفن کیا تھا ۔ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ اشعار کہے تھے۔ارے خبیب نے اپنے عہد کے حوالے سے خیانت نہیں کی ارے خبیب لوگوں میں عالم تھا زہیر بن اغر اور جامع نے تمہیں خریدا ہے اور وہ دونوں پرانے وقتوں سے ہی حرام کاموں کا ارتکاب کرتے چلے آرہے ہیں تم لوگوں نے پہلے پناہ دی اور جب تم نے پناہ دیدی تو تم نے اس کی خلاف ورزی کی جب تم لوگ رجیع کے کناروں پر چیخیں مارا کرتے تھے یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس میں ضعف پا یا جا تا ہے۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › Chapter on the return day] · Hadith 10339
