مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسِّيَرِ] ‹ بَابُ غَزْوَةِ تَبُوكَ] · حديث 10327
10328 - وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: «خَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ غَزْوَةِ تَبُوكَ فَبَلَغَهُ أَنَّ فِي الْمَاءِ قِلَّةً [الَّذِي يَرُدُّهُ]، فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى فِي النَّاسِ: " أَنْ لَا يَسْبِقَنِي فِي الْمَاءِ أَحَدٌ ". فَأَتَى الْمَاءَ وَقَدْ سَبَقَهُ قَوْمٌ فَلَعَنَهُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا گیا آپ ہمیں غزوہ تبوک کے بارے میں بتایئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تبوک کی طرف روانہ ہوئے یہ شدید گرمی کا موسم تھا ہم نے ایک جگہ پر پڑاؤ کیا جہاں ہمیں شدید پیاس لاحق ہو چکی تھی۔ یہاں تک کہ ہمیں یوں محسوس ہورہا تھا جیسے ہماری گردنیں کٹ جائیں گی یہاں تک کہ ہم میں سے کوئی ایک شخص قضائے حاجت کے لئے جا تا تھا تو واپس آنے سے پہلے اسے یہ لگتا تھا کہ اس کی گردن کٹ جائے گی یہاں تک کہ جب کوئی شخص اپنا اونٹ ذبح کرتا تھا تو وہ اس کی لید کو نچھوڑ لیتا تھا اور اسے پی لیا تھا اور اسے اپنے پیٹ پر رکھ لیتا تھا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! الله تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعا میں برکت رکھی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ تعالی سے دعا کیجئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت کیا: اےابو بکر کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دونوں ہاتھ بلند کیے ابھی آپ کے ہاتھ نیچے نہیں آئے تھے کہ آسمان سے بارش نازل ہوئی اور اتنی بارش ہوئی کہ لوگوں نے اپنے پاس موجودسب چیز یں بھر لیں پھر ہم نے جائزہ لیا تو ہمیں پتہ چلا کہ لشکر والے علاقے کے علاوہ کہیں بارش نہیں ہوئی تھی۔یہ روایت امام بزارنے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ امام بزار کے رجال ثقہ ہیں۔
حُذَيْفَةَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Al-Maghazi and Al-Seer Book] › Gate of Battle of Tabuk] · Hadith 10327
