مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسِّيَرِ] ‹ بَابُ غَزْوَةِ خَيْبَرَ] · حديث 10195
10195 - وَعَنْ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ: «كُنْتُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[فَلَوْ قُلْتُ: إِنَّ رُكْبَتِي تَمَسُّ رُكْبَتَهُ] فَسَكَتَ عَنْهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ السَّحَرِ، وَذَهَبَ ذُو الضَّرْعِ إِلَى ضَرْعِهِ، وَذُو الزَّرْعِ إِلَى زَرْعِهِ، أَغَارَ عَلَيْهِمْ وَقَالَ: إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
حضرت ابوطلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سواری پر پیچھے موجودتھا اگر میں یہ کہوں کہ میراگھٹنا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھٹنے سے مس ہورہا تھا( تو یہ کہہ سکتا ہوں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش رہے یہاں تک کہ جب سحری کا وقت ہوا اور مال مویشی والے مال مویشی کی طرف گئے اورکھیتی باڑی کرنے والے کھیتی کی طرف گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان لوگوں پر حملہ کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں تو ان لوگوں کی صبح بری ہوتی ہے جنہیں ڈرایا گیا ہو۔یہ روایت امام طبرانی نےنقل کی ہے اور اس کے رجال "صحیح" کے رجال ہیں۔
أَبِي طَلْحَةَ،
Hadith 10195
