مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْحَجِّ] ‹ [بَابٌ فِيمَنْ حَلَقَ رَأْسَهُ لِعِلَّةٍ] · حديث 5440
5440 - «وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ: آذَانِي هَوَامُّ رَأْسِي، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ ذِكْرُهُ: {فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ} [البقرة: 196] فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " هَلْ عِنْدَكَ فَرَقٌ تُقَسِّمُهُ بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ - وَالْفَرَقُ: ثَلَاثَةُ آصُعٍ - أَوْ نُسُكٌ: شَاةٌ أَوْ صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ؟ ". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خِرْ لِي. قَالَ: " أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
حضرت کعب بن عجرہ ؓبیان کرتے ہیں: میرے سر کی جوئیں مجھے پریشان کر رہی تھیں۔ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے نبی اکرم ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کردی:’’ تم میں سے جوشخص پیار ہو جائے یا اسے سر میں کوئی تکلیف ہو‘ تو اس کافد یہ روزے کی شکل میں ہوگا یا صد قے کی شکل میں ہوگا یا قربانی کی شکل میں ہوگا‘‘۔نبی اکرم ﷺ نے مجھے بلوایا اورارشادفرمایا: کیا تمہارے پاس ایک فرق (یعنی اناج کا مخصوص پیمانہ) ہے؟ اسے تم چھ مسکینوں میں تقسیم کر دوراوی کہتے ہیں: فرق تین صاع کا ہوتا ہے‘ ( نبی اکرم ﷺنے فرمایا:)یا پھرقربانی میں ایک بکری قربان کر دو یا تین دن کے روزے رکھ لو میں نے عرض کی : یارسول اللہ ! آپ میرے لئے کسی ایک کومقر رکر دیں‘ تو نبی اکرم ﷺ نےفرمایا: تم چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں: )میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت’’صحیح‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبید اللہ عرزمی ہے‘ اور وہ متروک ہے۔
ذَلِكَ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ ذِكْرُهُ: فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ ← آذَانِي هَوَامُّ رَأْسِي، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَسَأَلْتُهُ ← کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Pilgrimage] › [A door in which his head is shaved for a cause] · Hadith 5440
