مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ مَا يَسْتَفْتِحُ بِهِ الصَّلَاةَ] · حديث 2625
2625 - وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ قَالَ: «بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي إِذْ سَمِعَ رَجُلًا يَدْعُو: الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ كَمَا يَنْبَغِي لِكَرَمِ وَجْهِ رَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " مَنِ الْقَائِلُ كَذَا وَكَذَا؟ لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا "، ثُمَّ شَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِبَصَرِهِ حَتَّى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ قَالَ: " هِيَ لَكَ بِخَاتَمِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَثَلُهَا» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ الرَّهَاوِيُّ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَالْبُخَارِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.
حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے اسی دوران آپ نے کسی شخص کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا : " ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ایسی حمد جو زیادہ ہو پاکیزہ ہو اس میں برکت موجود ہو جو ایسی ہو جو ہمارے پروردگار کی عظمت کے لائق ہو" ۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ نے دریافت کیا : یہ کلمات پڑھنے والا شخص کون تھا ؟ میں نے بارہ فرشتوں کو ان کلمات کی طرف لپکتے ہوئے دیکھا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان فرشتوں کی طرف اپنی نگاہ یہاں تک کہ وہ فرشتے حجاب کے پیچھے چھپ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن یہ کلمات اپنی مہر سمیت تمہیں ملیں گے اور اس کی مانند ملے گا " ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک محمد بن یزید بن سنان رہاوی ہے ، جسے یحییٰ بن معین امام بخاری امام نسائی نے ضعیف قرار دیا ہے جب کہ بن حبان نے اسے " ثقہ " قرار دیا ہے ۔
«بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ يُصَلِّي ← أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [prayer book] › Chapter in what prayer opens] · Hadith 2625
