مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصِّيَامِ] ‹ باب · حديث 5129
5129 - وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: لَيْسَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ بِالْيَوْمِ الَّذِي يَقُولُهُ النَّاسُ إِنَّمَا كَانَ يَوْمٌ تُسْتَرُ فِيهِ الْكَعْبَةُ وَتَقْلِسُ فِيهِ الْحَبَشَةُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ يَدُورُ فِي السَّنَةِ وَكَانَ النَّاسُ يَأْتُونَ فُلَانًا الْيَهُودِيَّ فَيَسْأَلُونَهُ فَلَمَّا مَاتَ الْيَهُودِيُّ أَتَوْا زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَسَأَلُوهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَلَا أَدْرِي مَا مَعْنَاهُ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.
حضرت زید بن ثابت ؓ بیان کرتے ہیں: عاشوراء کے دن سے مرادوہ دن نہیں ہے جس کے بارے میں لوگ یہ کہتے ہیں: یہ ایک ایسادن ہے‘ جس دن میں خانہ کعبہ کوغلاف پہنا یا گیا اور حبشیوں نے نبی اکرم ﷺ کی موجودگی میں اس دن کرتب دکھائے تھے‘ وہ قحط سالی میں گھوما کرتے تھے‘ پہلے لوگ فلاں یہودی کے پاس جا کر اس سے سوال کرتے (یعنی مانگتے) تھے‘ جب وہ یہودی مر گیا‘ تو وہ لوگ حضرت زید بن ثابت ؓ کے پاس آئےاور انہوں نےان سے سوال کیا(یاکچھ مانگا)۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘اور مجھے یہ سمجھ نہیں آئی کہ اس کا مفہوم کیا ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوز ناد ہے‘ اوراس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے۔
زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ،
Hadith 5129
