مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِتْقِ] ‹ باب · حديث 7234
7234 - «وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَتْ جَارِيَةٌ تَرْعَى غَنَمًا لِي، فَأَكَلَ الذِّئْبُ شَاةً فَضَرَبْتُ وَجْهَ الْجَارِيَةِ فَنَدِمْتُ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَعْلَمُ أَنَّهَا مُؤْمِنَةٌ لَأَعْتَقْتُهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْجَارِيَةِ: " مَنْ أَنَا؟ ". قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ. قَالَ: " فَمَنِ اللَّهُ؟ ". قَالَتْ: الَّذِي فِي السَّمَاءِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْتِقْهَا، فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک کنیز میری بکریاں چرا رہی تھی، بھیڑیے نے ایک بکری کو کھا لیا ، میں نے کنیز کے چہرے پر تھپڑ مار دیا ، پھر مجھے ندامت ہوئی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور میں نے عرض کی : اگر مجھے یہ پتہ چل جائے کہ یہ مومن عورت ہے، تو میں اسے آزاد کر دوں گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کنیز سے دریافت کیا: میں کون ہوں ؟ اس نے عرض کی : آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ نے دریافت کیا : اللہ تعالیٰ کون ہے ؟ اس نے عرض کی : وہ جو آسمان میں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اسے آزاد کر دو! یہ مومن ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن شبیب ہے اور وہ ضعیب ہے ۔
كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Manumission] › Chapter · Hadith 7234
