مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِتْقِ] ‹ بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ حَبْسِ الرَّقِيقِ] · حديث 7198
7198 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «جَلَسَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِنْ أَيْنَ أَنْتَ؟ ". قَالَ: بَرْبَرِيٌّ. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُمْ عَنِّي ". قَالَ: بِمِرْفَقِهِ هَكَذَا، فَلَمَّا قَامَ عَنْهُ أَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: " إِنَّ الْإِيمَانَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ. وَقَالَ ابْنُ مَعِينٍ: يُكْتَبُ حَدِيثُهُ. وَصَالِحٌ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ، وَقَدِ اخْتَلَطَ.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک شخص آ کر بیٹھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : تمہارا تعلق کہاں سے ہے ؟ اس نے جواب دیا : میں بربری ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا : تم اٹھ جاؤ ! راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی کہنی کے ذریعے اس طرح اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی تھی ، جب وہ شخص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے اٹھ کر چلا گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :ایمان ان لوگوں کے حلق سے نیچے نہیں جائے گا۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن نافع ہے اور وہ متروک ہے، یحییٰ بن معین کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث کو نوٹ کیا جائے گا، ایک راوی صالح مولیٰ توامہ ہے، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا۔
بَرْبَرِيٌّ ← لَهُ رَسُولُ اللَّهِ مِنْ أَيْنَ أَنْتَ ← جَلَسَ إِلَى النَّبِيِّ رَجُلٌ ← أَبِي هُرَيْرَةَ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Manumission] › Chapter on what is disliked from slavery] · Hadith 7198
