مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْفَرَائِضِ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِي الْوَلَاءِ وَمَنْ يَرِثُهُ] · حديث 7180
7180 - «وَعَنْ غَيْلَانَ بْنِ سَلَمَةَ الثَّقَفِيِّ أَنَّ نَافِعًا أَبَا السَّائِبِ كَانَ عَبْدًا لِغَيْلَانَ فَفَرَّ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حَاصَرَ الطَّائِفَ، فَأَسْلَمَ فَأَعْتَقَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا أَسْلَمَ غَيْلَانُ رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَاءَ نَافِعٍ إِلَيْهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ: لَا نَعْلَمُ رَوَى غَيْلَانُ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ. قُلْتُ: وَفِيهِ عُرْوَةُ بْنُ غَيْلَانَ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
حضرت غيلان بن سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نافع ابو سائب، جو غیلان کے غلام تھے، وہ فرار ہوکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آگئے، یہ اس وقت کی بات ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ کیا ہوا تھا، انہوں نے اسلام قبول کر لیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد قرار دے دیا، جب حضرت غيلان رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نافع کی ولاء اُن کی طرف واپس کردی۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، وہ فرماتے ہیں : ہمارے علم کے مطابق حضرت عيلان رضی اللہ عنہ سے صرف یہی حدیث منقول ہے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: اس روایت کی سند میں ایک راوی عروہ بن غيلان ہے، میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Surplus Faras] › [Chapter on what came in loyalty and who inherits it] · Hadith 7180
