مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْفَرَائِضِ] ‹ بَابٌ مَتَى يَرِثُ الْمَوْلُودُ] · حديث 7144
7144 - وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ قَسَّمَ مَالَهُ بَيْنَ بَنِيهِ فِي حَيَاتِهِ، ثُمَّ مَاتَ فَوُلِدَ لَهُ وُلَدٌ بَعْدَ مَا مَاتَ فَلَقِيَ عَمْرٌو أَبَا بَكْرٍ، فَقَالَ: مَا نَمْتُ اللَّيْلَةَ مِنْ أَجْلِ ابْنِ سَعْدٍ هَذَا الْمَوْلُودِ، وَلَمْ يَتْرُكْ لَهُ شَيْئًا. فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ: وَأَنَا وَاللَّهِ مَا نِمْتُ اللَّيْلَةَ - أَوْ كَمَا قَالَ - مِنْ أَجْلِهِ فَانْطَلِقْ بِنَا إِلَى قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ فَكَلِّمْهُ (فِي أَخِيهِ)، فَأَتَيَاهُ فَكَلَمَّاهُ. فَقَالَ قَيْسٌ: أَمَّا شَيْءٌ أَمْضَاهُ سَعْدٌ فَلَا أَرُدُّهُ أَبَدًا، وَلَكِنْ أُشْهِدُكُمَا أَنَّ نَصِيبِي لَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طُرُقٍ رِجَالُهَا كُلُّهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّهَا مُرْسَلَةٌ لَمْ يَسْمَعْ أَحَدٌ مِنْهُمْ مِنْ أَبِي بَكْرٍ.
ابن سیرین بیان کرتے ہیں: حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے اپنا مال، اپنی زندگی میں اپنے بیٹوں کے درمیان تقسیم کر دیا، پھر ان کا انتقال ہو گیا، اس کے بعدان کا ایک اور بیٹا پیدا ہوا، وہ ان کے انتقال کے بعد پیدا ہوا تھا، حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کی ملاقات حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے ہوئی، تو انہوں نے کہا: سعد کے نومولو بیٹے کی وجہ سے میں گزشتہ رات سو نہیں سکا، کیونکہ انہوں نے اس کے لئے کچھ نہیں چھوڑا ہے، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! گز شتہ رات میں بھی نہیں سو سکا اور اس کی وجہ بھی یہی تھی، یا انہوں نے اس کی مانند کوئی اور کلمات کہے ( پھر انہوں نے فرمایا:) تم میرے ساتھ قیس بن سعد کے پاس چلو اور اس کے بھائی کے بارے میں اس کے ساتھ بات چیت کرو! یہ دونوں صاحبان ان کے پاس آئے، اوران کےساتھ بات چیت کی،توقیس بن سعدنےکہا:حضرت سعدرضی اللہ عنہ نے جو کیا ہے، میں اس میں کوئی تبدیلی نہیں کروں گا، البتہ میں آپ دونوں حضرات کو گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں۔ کہ میرا مخصوص حصہ اِس (بچہ) کو ملتا ہے۔ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف طرق کے حوالے سے نقل کی ہے، اور ان تمام کے رجال صحیح کے رجال ہیں، البتہ یہ روایت ”مرسل‘‘ ہے، ان راویوں میں سے کسی نے بھی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے۔
لَهُ أَبُو بَكْرٍ
Hadith 7144
