مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْفَرَائِضِ] ‹ بَابٌ فِيمَنْ فَرَّ مِنْ تَوْرِيثِ وَارِثِهِ] · حديث 7132
7132 - عَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّ غَيْلَانَ بْنَ سَلَمَةَ الثَّقَفِيَّ أَسْلَمَ تَحْتَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اخْتَرْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا ". فَلَمَّا كَانَ عَهْدُ عُمَرَ طَلَّقَ نِسَاءَهُ وَقَسَّمَ مَالَهُ بَيْنَ بَنِيهِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ، فَقَالَ: إِنِّي أَظُنُّ أَنَّ الشَّيْطَانَ فِيمَا يَسْتَرِقُ مِنَ السَّمْعِ سَمِعَ بِمَوْتِكَ فَقَذَفَهُ فِي نَفْسِكَ وَلَعَلَّكَ لَا تَمْكُثُ إِلَّا قَلِيلًا، وَايْمُ اللَّهِ لَتُرَاجِعَنَّ نِسَاءَكَ أَوْ لَتَرْجِعِنَّ فِي مَالِكَ، أَوْ لَأُوَرِّثُهُنَّ وَلَآمُرَنَّ بِقَبْرِكَ فَيُرْجَمُ كَمَا رُجِمَ قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ». قُلْتُ: رَوَى التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ إِلَى قَوْلِهِ: وَاخْتَرْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت غيلان بن سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ نے جب اسلام قبول کیا، تو ان کی دس بیویاں تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم ان میں سے چار کو اختیار کرلو۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ۔ انہوں نے ان ( چار )بیویوں کو بھی طلاق دے دی اور اپنامال اپنے بیٹوں میں تقسم کردیا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع ملی ،تو انہوں نے فرمایا: میرا یہ خیال ہے کہ شیطان چھپ کر جو باتیں سنتا ہے، اسے نے تمہاری موت کی اطلاع بھی سن لی ہے، اور یہ چیزتمہارے دل میں ڈال دی ہے ،اب شاید تم تھوڑا عرصہ ہی زندہ رہوگے ،اللہ کی قسم! یا توتم اپنی بیویوں سے رجوع کرلوگے ، پھر وہ بیویاں تمہارے مال کو حاصل کریں گی ،یا میں انہیں وارث قراردوں گا، اور پھر تمہاری قبر کے بارے میں حکم دوں گا، تو اسے اس طرح سنگسار کیا جائے گا ،جس طرح ابورغال کی قبرکو سنگسار کیا گیا تھا۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں: )میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے یہ روایت ان الفاظ تک نقل کی ہے:”تم ان میں سے چار کو اختیار کرلو‘‘۔یہ روایت امام احمد امام بزار اور امام ابویعلیٰ نےنقل کی ہے، امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔
ابْنِ عُمَرَ
Hadith 7132
