مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْوَصَايَا] ‹ باب · حديث 7122
7122 - وَعَنْ أَبِي كَاهِلٍ قَالَ: «قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا كَاهِلٍ أَلَا أُخْبِرُكَ بِقَضَاءٍ قَضَاهُ اللَّهُ عَلَى نَفْسِهِ ". قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: " أَحْيَا اللَّهُ قَلْبَكَ، وَلَا يُمِيتُهُ يَوْمَ يَمُوتُ بَدَنُكَ. اعْلَمْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ لَنْ يَغْضَبَ رَبُّ الْعِزَّةِ عَلَى مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مَخَافَةٌ، وَلَا تَأْكُلُ النَّارُ مِنْهُ هُدْبَةً. اعْلَمْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ سَتَرَ عَوْرَةً حَيَاءً مِنَ اللَّهِ سِرًّا وَعَلَانِيَةً كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْتُرَ عَوْرَتَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. اعْلَمْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ دَخَلَتْ حَلَاوَةُ الصَّلَاةِ قَلْبَهُ حَتَّى يُتِمَّ رُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُرْضِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. اعْلَمْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ صَلَّى أَرْبَعِينَ يَوْمًا وَأَرْبَعِينَ لَيْلَةً فِي جَمَاعَةٍ يُدْرِكُ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَكْتُبَ لَهُ بَرَاءَةً مِنَ النَّارِ. اعْلَمْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ صَامَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مَعَ شَهْرِ رَمَضَانَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَرْوِيَهُ يَوْمَ الْعَطَشِ. اعْلَمْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ كَفَّ أَذَاهُ عَنِ النَّاسِ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَكُفَّ عَنْهُ أَذَى الْقَبْرِ. اعْلَمْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ بَرَّ وَالِدَيْهِ حَيًّا وَمَيِّتًا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُرْضِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ". قُلْتُ: كَيْفَ يَبَرُّ وَالِدَيْهِ إِذَا كَانَا مَيِّتَيْنِ؟ قَالَ: " بِرُّهُمَا أَنْ يَسْتَغْفِرَ لِوَالِدَيْهِ، وَلَا يَسُبَّهُمَا، وَلَا يَسُبَّ وَالِدَيْ أَحَدٍ فَيَسُبَّ وَالِدَيْهِ. اعْلَمْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ أَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ عِنْدَ حُلُولِهَا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَجْعَلَهُ مِنْ رُفَقَاءِ الْأَنْبِيَاءِ. اعْلَمْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ قَلَّتْ عِنْدَهُ حَسَنَاتُهُ وَعَظُمَتْ عِنْدَهُ سَيِّئَاتُهُ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُثْقِلَ مِيزَانَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. اعْلَمَنْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ سَعَى عَلَى امْرَأَتِهِ وَوَلَدِهِ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُهُ يُقِيمُ فِيهِمْ أَمْرَ اللَّهِ وَيُطْعِمُهُمْ مِنْ حَلَالٍ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَجْعَلَهُ مَعَ الشُّهَدَاءِ فِي دَرَجَاتِهِمْ. اعْلَمَنْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ كُلَّ يَوْمٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَكُلَّ لَيْلَةٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حُبًّا بِي وَشَوْقًا لِي كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ ذُنُوبَهُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَذَلِكَ الْيَوْمَ، اعْلَمْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ مُسْتَيْقِنًا بِهِ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ بِكُلِّ مَرَّةٍ ذُنُوبَ حَوْلٍ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ عَطَاءٍ ذَكَرَهُ الذَّهَبِيُّ، وَقَالَ: إِسْنَادُهُ مُظْلِمٌ.
حضرت ابو کا ہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابوکاہل ! کیا میں تمہیں اس فیصلے کےبارے میں نہ بتاؤں؟ جو اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے بارے میں طے کیا ہے؟ میں نے عرض کی : جی ہاں! یا رسول الله!نبی اکرم نے فرمایا: الله تعالیٰ تمہارے دل کوزندگی دے اور اس دن اسے موت کا شکار نہ کرے جب تمہارا جسم مرجائے گا۔ اے ابوکا ہل !تم یہ بات جان لو! کہ رب العزت اس شخص پر غضبناک نہیں ہوگا، جس کے دل میں خوف ہو اور آگ اس شخص کو بالکل بھی نہیں کھائے گی ۔ اے ابوکاہل!تم یہ بات جان لو !کہ جو الله تعالیٰ سے حیا کی وجہ سے پوشیدہ اور اعلانیہ طور پر شرمگاہ کا پردہ رکھے گا، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ قیامت کے دن اس کے پوشیدہ معاملات کا پردہ رکھے۔ اے ابو کاہل! تم یہ بات جان لو !کہ جس شخص کے دل میں نماز کی حلاوت داخل ہوجائے ،یہاں تک کہ وہ اس کےرکوع اور سجود کومکمل کرے ،تو الله تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ قیامت کے دن اس بندے کوراضی کرے۔ اے ابوکا ہل ! تم یہ بات جان لو !کہ جوشخص چالیس دن اور چالیس راتوں تک باجماعت نمازیں ادا کرے کہ وہ تکبیر اُولیٰ کوبھی پالے ،تو الله تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ اس کے لئے جہنم سے بچاؤ کو نوٹ کرلے۔ اے ابوکا ہل ! تم یہ بات جان لو !جو ہر مہینے میں تین روزے رکھے ،اور ساتھ رمضان کے روزے بھی رکھے، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ وہ پیاس والے دن اُسے سیراب کرے۔ اے ابو کاہل! تم یہ بات جان لو !کہ جو شخص لوگوں کو تکلیف دینے سے باز رہے، تو الله تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ قہرکی ازیت اس سے روک لے۔ اے ابوکاہل! تم یہ بات جان لو !کہ جوشخص اپنے والدین کے ساتھ ان کی زندگی اور موت ،ہر حال میں اچھائی کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ وہ قیامت کے دن اسے راضی کرے۔میں نے عرض کی : کوئی شخص اپنے والدین کے مرنے کے بعد ان کے ساتھ اچھا سلوک کیسے کرسکتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے مرنے کے بعدان کے ساتھ اچھا سلوک یہ ہے کہ آدمی اپنی والدین کے لئے دعائے مغفرت کرے ،اور انہیں برانہ کہے اور کسی کے والدین کو برا نہ کہے کہ وہ جواب میں اس کے والدین کو برا کہے۔ اے ابوکاہل ! تم یہ بات جان لو! کہ جوشخص ز کوٰۃ لازم ہونے کے وقت اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرتا ہے، تو الله تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ وہ اسے انبیاء کا ساتھی بنائے۔ اے ابو کاہل ! تم یہ بات جان لو!کہ جس شخص کی نیکیاں کم ہوں گی ،اور اس کی برائیاں زیادہ ہوں گی، تو الله تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ قیامت کے دن اس کے پلڑے کو بھاری کر دے۔ اے ابوکا بل ! تم یہ بات جان لو !کہ جوشخص اپنی بیوی بچوں کے لئے ( کمائی کرنے کے لئے) کوشش کرتا ہے اور اپنے زیرملکیت لوگوں کے لئے کوشش کرتا ہے اور ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کو قائم رکھتا ہے اور انہیں حلال رزق کھلاتا ہے ،تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ وہ اس شخص کوشہداء کے ساتھ ان کے درجہ میں رکھے۔ اے ابوکا ہل ! تم یہ بات جان لو !کہ جوشخص روزانہ دن کے وقت مجھ پر تین مرتبہ درود بھیجے، اور رات کے وقت مجھ پر تین مرتبہ درود بھیجے، وہ مجھ سے محبت اور میرے شوق کی خاطر ایسا کرے ،تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ وہ اس شخص کے اس رات کے اور اس دن کے گناہوں کی مغفرت کردے۔ اے ابوکاہل ! تم یہ بات جان لو! کہ جو اس بات کی گواہی دیتا ہو، کہ الله تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبو نہیں ہے ،وہی ایک معبود ہے ، اور وہ اس بات پر یقین رکھتا ہو، تو الله تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے ،کہ ہر مرتبہ (یہ کلمات پڑھنے پر) اس شخص کے ایک سال کے گناہوں کی مغفرت کر دے۔ یہ روایت امام طبرانی نےنقل کی ہے، اور اس کی سند میں ایک راوی فضل بن عطاء ہے جس کا ذکر امام ذہبی نے کیا ہے، انہوں یہ بات بیان کی ہے کہ اس کی سند تاریک ہے۔
أَبِي كَاهِلٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The book of wills] › Chapter · Hadith 7122
