مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ مَنْ أَمَّ النَّاسَ فَلْيُخَفِّفْ] · حديث 2373
2373 - وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: «فَلَمَّا انْفَتَلَ أُبَيٌّ أُخْبِرَ بِذَلِكَ قَالَ: فَعَرَفَ أُبَيٌّ أَنَّ الْغُلَامَ يَشْكُو إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقُرِّبَ الْغُلَامُ يَشْكُو أُبَيًّا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ، فَإِذَا صَلَّيْتُمْ فَأَوْحِرُوا أَوْ فَأَوْجِزُوا» " - شَكَّ أَبُو يَحْيَى أَوْ كَمَا قَالَ - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ. وَفِيهِ عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو دَاوُدَ، وَوَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَابْنُ حِبَّانَ.
ان کے حوالے سے منقول ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: جب حضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نماز مکمل کی تو انہیں اس بارے میں بتا یا گیا، راوی بیان کرتے ہیں: تو حضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس بات اندازہ ہو گیا کہ وہ لڑکا نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں شکایت کرے گا اس لڑکے نے حضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شکایت کی تو نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں کچھ لوگ متنفر کرنے والے ہیں، جب تم نماز پڑھاؤ تو مختصر نماز پڑھاؤ ! یہاں ایک لفظ کے بارے میں ابو یحییٰ نامی راوی کو شک ہے، اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے۔ اس حدیث کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن جاریہ ہے، جسے یحییٰ بن معین اور امام ابو داؤد نے ضعیف قرار دیا ہے، جب کہ ابو زرعہ اور امام بن حیان نے اسے "ثقہ" قرار دیا ہے۔
ابْنِ حَبَّانَ ← وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ ← أَبُو دَاوُدَ، ← الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ. وَفِيهِ عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ ← فَعَرَفَ أُبَيٌّ أَنَّ الْغُلامَ يَشْكُو إِلَى رَسُولِ اللَّهِ وَقَرُبَ الْغُلامُ يَشْكُو أُبَيًّا ← وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: «فَلَمَّا انْفَتَلَ أُبَيٌّ أُخْبِرَ بِذَلِكَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [prayer book] › The door from the people, let him lighten] · Hadith 2373
