مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصِّيَامِ] ‹ باب · حديث 4807
4807 - وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ قَالَ: «شَهِدْتُ الْمَدِينَةَ وَبِهَا ابْنُ عُمَرَ، وَابْنُ عَبَّاسٍ، فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى وَالِيهَا وَشَهِدَ عِنْدَهُ عَلَى رُؤْيَةِ هِلَالِ شَهْرِ رَمَضَانَ، فَسَأَلَ ابْنَ عَمَرَ وَابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ شَهَادَتِهِ، فَأَمَرَاهُ أَنْ يُجِيزَهَا، وَقَالَا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَجَازَ شَهَادَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ عَلَى رُؤْيَةِ هِلَالِ رَمَضَانَ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يُجِيزُ شَهَادَةً فِي الْإِفْطَارِ إِلَّا شَهَادَةَ رَجُلَيْنِ». قُلْتُ: هُوَ فِي السُّنَنِ بِاخْتِصَارٍ عَنْ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو الْأَيْلِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
عبدالملک بن میسرہ بیان کرتے ہیں: میں مدینہ منورہ میں موجود تھا وہاں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے ایک شخص وہاں کے والی کے پاس آیا اور اس نے والی کے سامنے رمضان کے مہینے کے پہلی کے چاند کو دیکھنے کے بارے میں گواہی دی، والی نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہ سے اس شخص کی گواہی کے بارے میں دریافت کیا، تو ان دونوں صاحبان نے اسے یہ ہدایت کی کہ وہ اس گواہی کو قبول کرے۔ ان دونوں حضرات نے یہ بات بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے پہلی کے چاند کو دیکھنے کے بارے میں ایک شخص کی گواہی کو درست قرار دیا ہے، البتہ عید الفطر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کم از کم دو آدمیوں کی گواہی کو درست قرار دیتے تھے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: یہ روایت سنن میں اختصار کے ساتھ موجود ہے۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی حفص بن عمرو ابلی ہے، اور وہ ضعیف ہے۔
شَهَادَتِهِ، فَأَمَرَاهُ أَنْ يُجِيزَهَا، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الِيهَا وَشَهِدَ عِنْدَهُ عَلَى رُؤْيَةِ هِلَالِ شَهْرِ رَمَضَانَ، فَسَأَلَ ابْنَ عَمَرَ ← ابْنُ عَبَّاسٍ، فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى ← شَهِدْتُ الْمَدِينَةَ وَبِهَا ابْنُ عُمَرَ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ،
Hadith 4807
