مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصِّيَامِ] ‹ [بَابٌ فِيمَنْ يُصْبِحُ صَائِمًا ثُمَّ يُفْطِرُ] · حديث 5227
5227 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «أَصْبَحَتْ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ صَائِمَتَيْنِ، فَأُهْدِيَ لَهُمَا طَعَامٌ فَأَفْطَرَتَا، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَتْهُ إِحْدَاهُمَا - أَحْسَبُهُ قَالَ حَفْصَةَ - قَالَ: " اقْضِيَا يَوْمًا مَكَانَهُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ ; ضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ: شَيْخٌ.
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہؓ اورسید و حفصہ ؓ نے روزہ رکھا ہواتھاان کے پاس کھانا تحفے کے طور پر بھیجا گیا تو ان دونوں نے روز ہ ختم کر دیا نبی اکرم ﷺ تشریف لائے آپ نے ان دونوں خواتین میں سے کسی ایک سے دریافت کیا: راوی کہتے ہیں: میراخیال ہے سیدہ حفصہ ؓسے دریافت کیا: پھر آپ نے ارشادفرمایا: تم دونوں اس کی جگہ ایک دن روزہ رکھ لینا۔ یہ روایت امام بزاراورامام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حماد بن ولید ہے ‘جسے ائمہ نے’’ ضعیف‘‘ قراردیا ہے ابوحاتم کہتے ہیں: وہ بزرگ ہے۔
ابْنِ عُمَرَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The fasting book] › Chapter on those who fast and then break their fast. · Hadith 5227
