مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصِّيَامِ] ‹ [بَابٌ فِي فَضْلِ الصَّوْمِ] · حديث 5095
5095 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا مُوسَى سَرِيَّةً فِي الْبَحْرِ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ رَفَعُوا الشِّرَاعَ فِي لَيْلَةٍ مُظْلِمَةٍ إِذَا هَاتِفٌ يَهْتِفُ مِنْ فَوْقِهِمْ: يَا أَهْلَ السَّفِينَةِ قِفُوا أُخْبِرُكُمْ بِقَضَاءٍ قَضَاهُ اللَّهُ عَلَى نَفْسِهِ فَقَالَ أَبُو مُوسَى: أَخْبِرْنَا إِنْ كُنْتَ مُخْبِرًا؟! قَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَضَى عَلَى نَفْسِهِ أَنَّهُ مَنْ أَعْطَشَ نَفْسَهُ لَهُ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ سَقَاهُ اللَّهُ يَوْمَ الْعَطَشِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوموسی ٰاشعری رضی اللہ عنہ کو ایک سمندری جنگی مہم پر بھیجا وہ لوگ سمندر میں موجود تھے ایک تاریک رات میں جب انہوں نے بادبان بلند کیے ‘ اس دوران ان کے اوپر سے کسی ہا تف نے پکار کر کہا: اے کشتی والو! تم ٹھہر جاؤ میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے بارے میں بتاتا ہوں جو اس نے اپنی ذات کے حوالے سے طے کیا ہے حضرت ابوموسٰی رضی اللہ عنہ نے کہا تم ہمیں بتاؤ اگر تم نے بتانا ہے ‘ تو اس نے کہا: بے شک اللہ تبارک وتعالی نے اپنی ذات کے حوالے سے یہ طے کیا ہے کہ جوشخص ایک گرم دن میں اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی خاطر پیاسا رکھے گا (یعنی روزہ رکھے گا ) تو اللہ تعالیٰ پیاس والے دن اسے سیراب کرے گا۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔
ابْنِ عَبَّاسٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The fasting book] › [Chapter on the virtue of fasting] · Hadith 5095
