مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصِّيَامِ] ‹ باب · حديث 4915
4915 - وَعَنْ مُثْعِبٍ قَالَ: «كَانَ غَزْوٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ مِنْهُمْ إِلَّا وَلَهُ رَاحِلَتُهُ يَعْتَقِبُ عَلَيْهَا غَيْرِي، قَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ ثُمَّ يَقُولُ لِي: " ارْكَبْ ". فَأَقُولُ: إِنَّ بِي قُوَّةً. حَتَّى يَفْعَلَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً. فَيَقُولُ: " مَا أَنْتَ إِلَّا مِثْعِبٌ ". قَالَ: فَكَانَ مِنْ أَحَبِّ أَسْمَائِي إِلَيَّ. قَالَ: فَكُنْتُ أُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ فَيَصُومُ بَعْضُهُمْ وَيُفْطِرُ بَعْضُهُمْ، فَلَمْ يَعِبِ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ; إِلَّا أَنَّ أَشْعَثَ بْنَ أَبِي الشَّعْثَاءِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَحَدٍ مِنَ الصَّحَابَةِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
حضرت مثعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ ایک جنگ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے ان میں سے ہر ایک شخص کے پاس سواری کا جانور موجود تھا جس پر وہ سوارتھا صرف میرے پاس نہیں تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے نیچے اترے اور آپ نے مجھ سے فرمایا: تم سوار ہوجاؤ میں نے عرض کی: میرے اندر قوت موجود ہے ایسا دو یا شاید تین مرتبہ ہوا یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم مثعب (شاید یہاں مراد مضبوط ہونا ہے) ہو، راوی کہتے ہیں تو یہ نام میرے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ ہے راوی بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب کے درمیان سفر کر رہا تھا، تو ان میں سے بعض لوگوں نے روزہ رکھا ہوا تھا اور بعض نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا، تو روزہ رکھنے والوں نے نہ رکھنے والوں پر اور روزہ نہ رکھنے والا والا روزہ رکھنے والے پر کوئی اعتراض نہیں کر رہا تھا۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے، البتہ یہ ہے کہ اشعث بن ابو شعثا نامی نے کسی بھی راوی سے سماع نہیں کیا ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔
مُثْعِبٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The fasting book] › Chapter · Hadith 4915
