مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقِبْلَةِ] · حديث 1979
1979 - «وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: بَيْنَا أَنَا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذِ اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ فَأَذِنَ لَهُ فَقَالَ: السَّامُ عَلَيْكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " وَعَلَيْكَ "، قَالَتْ: فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ، فَقَالَتْ: ثُمَّ دَخَلَ الثَّانِيَةَ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " وَعَلَيْكَ "، قَالَتْ: ثُمَّ دَخَلَ الثَّالِثَةَ فَقَالَ: السَّامُ عَلَيْكَ، قَالَتْ: قُلْتُ: بَلِ السَّامُ عَلَيْكَ وَغَضَبُ اللَّهِ، إِخْوَانَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ، أَتُحَيُّونَ رَسُولَ اللَّهِ بِمَا لَمْ يُحَيِّهْ بِهِ اللَّهُ؟ قَالَتْ: فَنَظَرَ إِلَيَّ فَقَالَ: " مَهْ، إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ، قَالُوا قَوْلًا فَرَدَدْنَاهُ عَلَيْهِمْ فَلَمْ يَضُرَّنَا شَيْئًا، وَلَزِمَهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، إِنَّهُمْ لَا يَحْسُدُونَ عَلَى شَيْءٍ كَمَا حَسَدُونَا عَلَى الْجُمُعَةِ الَّتِي هَدَانَا اللَّهُ لَهَا وَضَلُّوا عَنْهَا، وَعَلَى الْقِبْلَةِ الَّتِي هَدَانَا اللَّهُ لَهَا وَضَلُّوا عَنْهَا، وَعَلَى قَوْلِنَا خَلْفَ الْإِمَامِ آمِينَ» ". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ شَيْخُ أَحْمَدَ وَقَدْ تُكُلِّمَ فِيهِ بِسَبَبِ كَثْرَةِ الْغَلَطِ وَالْخَطَأِ، قَالَ أَحْمَدُ: أَمَّا أَنَا فَأُحَدِّثُ عَنْهُ، وَحَدَّثْنَا عَنْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس موجود تھی اسی دوران ایک یہودی شخص نے اندر آنے کی اجازت مانگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اجازت عطا کر دی اس نے کہا السام علیک ( یعنی آپ کو موت آئے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :تمہیں بھی ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے کچھ بات کہنے کا ارادہ کیا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں پھر وہ دوسری مرتبہ آیا تو اس نے پھر اس کی مانند کلمات کہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : تمہیں بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں پھر وہ تیسری مرتبہ آیا تو اس سنے پھر اس نے کہا السام علیک ( یعنی آپ کو موت آئے ) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں تو میں نے کہا : بلکہ تمہیں موت آئے اور تم پر اللہ کا غضب نازل ہو تم لوگ بند اور خنزیروں کے بھائی ہو کیا تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کے برخلاف طریقے سے سلام کرتے ہو، جس طریقے اللہ تعالیٰ نے ان پر سلام بھیجا ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میری طرف دیکھا اور فرمایا رک جاؤ اللہ تعالیٰ بد زبانی اور بد گوئی کو پسند نہیں کرتا ہے ان لوگوں نے ایک بات کہی تھی ہم نے انہیں جواب دے دیا ان کی بات ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی ، اور ان لوگوں پر قیامت کے دن تک کے لئے لازم ہو جائے گی یہ لوگ کسی بھی چیز کے حوالے سے اتنا حسد نہیں کرتے ہیں جتنا جمعہ کے دن کے حوالے سے ہمارے ساتھ حسد کرتے ہیں جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ہماری رہنمائی کر دی اور ان لوگوں کو اسی سے گمراہ کر دیا اور اس قبلہ کے حوالے سے ہم سے حسد کرتے ہیں، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ہماری رہنمائی کر دی اور ان لوگوں کو اس سے گمراہ کر دیا اور امام کے پیچھے ہمارے آمین کہنے سے ہم سے حسد کرتے ہیں"۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : "صحیح " میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن عاصم ہے، جو امام احمد کا استاد ہے، اس کی بکثرت غلطیوں اور خطاؤں کی وجہ سے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے امام احمد فرماتے ہیں : جہاں تک میرا تعلق ہے ، تو میں اس کے حوالے سے حدیث روایت کرتا ہوں ، اور مجھے اس کے حوالے سے حدیث بیان کی گئی ہیں اس روایت کے بقیہ رجال " ثقہ " ہیں ۔
عِنْدَ النَّبِيِّ ← بَيْنَا ← عَائِشَةَ
Hadith 1979
