مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الزَّكَاةِ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِي السُّؤَالِ] · حديث 4514
4514 - وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَأَلَ مَسْأَلَةً عَنْ ظَهْرِ غِنًى اسْتَكْثَرَ بِهَا مِنْ رَضْفِ جَهَنَّمَ ". قَالُوا: وَمَا ظَهْرُ غِنًى؟ قَالَ: " عَشَاءُ لَيْلَةٍ». رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِي إِسْنَادِهِمَا الْحَسَنُ بْنُ ذَكْوَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ. وَالْحَسَنُ - وَإِنْ أَخْرَجَ لَهُ الْبُخَارِيُّ - فَقَدْ ضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَلَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ حَبِيبٍ. بَيْنَهُمَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ، كَمَا حَكَاهُ ابْنُ عَدِيٍّ فِي الْكَامِلِ، عَنِ ابْنِ صَاعِدٍ، وَعُمَرُو بْنُ خَالِدٍ كَذَّبَهُ أَحْمَدُ، وَابْنُ مَعِينٍ، وَالدَّارَقُطْنِيُّ.
حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: ’’جوشخص خوشحال ہونے کے باوجود کچھ مانگتا ہے، تو وہ اس کے ذریعے جہنم کے انگاروں میں اضافہ کرتا ہے‘‘ لوگوں نے عرض کی: خوشحال ہونے سے مراد کیا ہے؟ آپ نے فرمایا:’’ رات کا کھانا موجود ہونا‘‘۔ یہ روایت عبد الله بن احمد نے نقل کی ہے، امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، ان دونوں کی سند میں یہ بات مذکور ہے: اسے حسن بن ذکوان نے حبیب بن ابوثابت سے نقل کیا ہے حسن نامی راوی کے حوالے سے اگر چہ امام بخاری نے روایت نقل کی ہے، لیکن ایک سے زیادہ افراد نے اسے ’’ضعیف‘‘ قرار دیا ہے، اور اس نے حبیب سے سماع کبھی نہیں کیا ہے ان دونوں کے درمیان ایک راوی عمرو بن خالد واسطی ہے، جیسا کہ ابن عدی نے یہ بات کتاب ’’الکامل‘‘ میں ابن صاعد کے حوالے سے نقل کی ہے۔ عمرو بن خالد نامی راوی کو امام احمد، یحییٰ بن معین اور امام دارقطنی نے جھوٹا قرار دیا ہے۔
عَلِيٍّ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Zakat] › [Chapter on what came in the question] · Hadith 4514
