مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الزَّكَاةِ] ‹ [بَابُ الصَّدَقَةِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِآلِهِ وَلِمَوَالِيهِمْ] · حديث 4494
4494 - وَعَنْهُ قَالَ: «بَعَثَ نَوْفَلُ بْنُ الْحَارِثِ ابْنَيْهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمَا: انْطَلِقَا إِلَى ابْنِ عَمِّكُمَا لَعَلَّهُ يَسْتَعِينُ بِكُمَا عَلَى الصَّدَقَاتِ، لَعَلَّكُمَا تُصِيبَانِ شَيْئًا فَتَتَزَوَّجَانِ. فَلَقِيَا عَلِيًّا رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَقَالَ: أَيْنَ تَأْخُذَانِ؟ فَحَدَّثَاهُ حَاجَتَهُمَا. فَقَالَ لَهُمَا: ارْجِعَا [فَرَجَعَا]. فَلَمَّا أَمْسَيَا أَمْرَهُمَا أَنْ يَنْطَلِقَا إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا دَفَعَا الْبَابَ اسْتَأْذَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَائِشَةَ: " أَرْخِي عَلَيْكِ سَجَفَكِ، أُدْخِلْ عَلَيَّ ابْنَيْ عَمِّي ". فَحَدَّثَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَاجَتِهِمَا، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحِلُّ لَكُمَا أَهْلَ الْبَيْتِ مِنَ الصَّدَقَاتِ شَيْءٌ، وَلَا غُسَالَةُ أَيْدِي النَّاسِ. إِنَّ لَكُمْ فِي خُمْسِ الْخُمْسِ لَمَا يُغْنِيكُمْ - أَوْ يَكْفِيكُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ الْمُلَقَّبُ بِحَنَشٍ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ أَبُو مِحْصَنٍ.
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے: وہ بیان کرتے ہیں: نوفل بن حارث نے ،اپنے دوصاحبزادوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، اور ان سے کہا: تم دونوں اپنے چچازاد کے پاس جاؤ ! ہوسکتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں زکٰوة وصول کرنے کے لئے اہل کا مقرر کر دیں گے ،اس طرح تم ایسی کمائی حاصل کرلوگے جس کے ذریعے تم شادی کرلو گے ،ان دونوں کی ملاقات حضرت علی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی ،انہوں نے دریافت کیا: تم کیا چاہتے ہو؟ ان دونوں نے اپنی ضرورت کے بارے میں بتایا ،تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان دونوں سے فرمایا: تم لوگ واپس چلے جاؤ !وہ دونوں واپس چلے گئے، جب شام ہوئی تونوال بن حارث نے ان دونوں کو ہدایت کی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے جائیں، جب وہ دونوں دروازے پر آئے، تو انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا :تم پردہ کر لو ،میرے دو چچازاد اندر آنے لگے ہیں،پھر ان دونوں صاحبان نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے کام کے سلسلے میں بات چیت کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر مایا: ’’اے اہل بیت ! تمہارے لئے صدقہ میں سے کوئی بھی چیز جائز نہیں ہے، جو لوگوں کے ہاتھوں کا میل ہوتی ہے، تمہارے لئے خمس کا پانچواں حصہ ہے، وہ تمہیں بے نیاز کردے گا (راوی کو شک ہے ،شاید یہ الفاظ ہیں : ) وہ تمہارے لئے کفایت کر جائے گا‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ،اس کی سند میں ایک راوی حسین بن قیس ہے ،جس کا لقب حنش ہے ،اس کے بارے میں بہت زیادہ کام کیا گیا ہے ،ابومحصن نے اسے ’’ثقہ‘‘ قرار دیا ہے۔
وعنه
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Zakat] › [Chapter of charity for the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, for his families and their followers] · Hadith 4494
