مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ إِجَابَةِ الْمُؤَذِّنِ، وَمَا يَقُولُ عِنْدَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ] · حديث 1878
1878 - وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ: " اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَعْطِهِ سُؤْلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، وَكَانَ يُسْمِعُهَا مَنْ حَوْلَهُ، وَيُحِبُّ أَنْ يَقُولُوا مِثْلَ ذَلِكَ إِذَا سَمِعُوا الْمُؤَذِّنَ. قَالَ: " وَمَنْ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ وَجَبَتْ لَهُ شَفَاعَةُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّمِينُ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَالْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ وَغَيْرُهُمْ، وَوَثَّقَهُ دُحَيْمٌ وَأَبُو حَاتِمٍ وَأَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ.
حضرت ابو داؤد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مؤذن کو ( اذان دیتے ہوئے ) سنتے تھے تو یہ پڑھتے تھے ( یعنی اذان کے بعد یہ دعا مانگتے تھے: ) " اے اللہ! اے اس مکمل دعوت اور اس کے نتیجے میں کھڑی ہونے والی نماز کے پروردگار تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود نازل فرما اور قیامت کے دن انہوں نے جو مانگا ہے وہ انہیں عطا فرما"۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے آس پاص موجود افراد کو یہ کلمات ( بلند آواز میں پڑھ کر ) سناتے تھے ، اور آپ اس بات کو پسند کرتے تھے کہ وہ لوگ بھی اس کی مانند دعا مانگیں جب وہ مؤذن کو سنیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : " جو شخص مؤذن کو سنے ( اور اذان مکمل ہونے کے بعد ) اس کی مانند کلمات پڑھے اس کے لئے قیامت کے دن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت واجب ہو جائے گی"۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن عبداللہ سمین ہے، جسے امام احمد امام بخاری امام مسلم اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، جب کہ دحیم ابو حاتم اور احمد صالح مصری نے اسے " ثقہ " قرار دیا ہے۔
أَبِي الدَّرْدَاءِ،
Hadith 1878
