مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الزَّكَاةِ] ‹ بَابٌ مِنْهُ فِي بَيَانِ الزَّكَاةِ] · حديث 4384
4384 - عَنْ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ بِكِتَابٍ فِيهِ الْفَرَائِضُ، وَالسُّنَنُ، وَالدِّيَاتُ، وَبَعَثَ بِهِ عَمْرَو بْنَ حَزْمٍ، فَقُرِئَتْ عَلَى أَهْلِ الْيَمَنِ وَهَذِهِ نُسْخَتُهَا: " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى شُرَحْبِيلَ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ، وَالْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ، وَنُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ قَيْلِ ذِي رُعَيْنٍ، وَمَغَافِرَ، وَهَمْدَانَ. أَمَّا بَعْدُ: فَقَدْ رَجَعَ رَسُولُكُمْ، وَأُعْطِيتُمْ مِنَ الْمَغَانِمِ خُمْسَ اللَّهِ، وَمَا كَتَبَ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ مِنَ الْعُشْرِ فِي الْعَقَارِ، وَمَا سَقَتِ السَّمَاءُ، أَوْ كَانَ سَبْخًا، أَوْ كَانَ بَعْلًا فِيهِ الْعُشْرُ إِذَا بَلَغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ، وَفِي كُلِّ خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ سَائِمَةٍ شَاةٌ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً عَلَى أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ. فَإِنْ لَمْ تُوجَدْ بِنْتُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ، إِلَى أَنْ تَبْلُغَ خَمْسًا وَثَلَاثِينَ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ خَمْسًا وَأَرْبَعِينَ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً عَلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ، إِلَى أَنْ تَبْلُغَ السِّتِّينَ فَإِنْ زَادَتْ عَلَى سِتِّينَ وَاحِدَةً فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ خَمْسًا وَسَبْعِينَ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً عَلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ فَفِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ، إِلَى أَنْ تَبْلُغَ تِسْعِينَ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ، إِلَى أَنْ تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةً، فَإِنْ زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ، وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةً طَرُوقَةُ الْجَمَلِ، وَفِي كُلِّ ثَلَاثِينَ بَاقُورَةً بَقَرَةٌ جَذَعٌ أَوْ جَذَعَةٌ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بَاقُورَةً بَقَرَةٌ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ شَاةً سَائِمَةً شَاةٌ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةً. فَإِنْ زَادَتْ عَلَى الْعِشْرِينَ وَمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا شَاتَانِ، إِلَى أَنْ تَبْلُغَ مِائَتَيْنِ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ ثَلَاثَمِائَةٍ، فَإِنْ زَادَتْ فَفِي كُلِّ مِائَةِ شَاةٍ شَاةٌ. وَلَا يُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ مُحْفِلَةٌ وَلَا هَرِمَةٌ وَلَا عَجْفَاءُ وَلَا ذَاتُ عُوَارٍ، وَلَا تَيْسُ الْغَنَمِ، وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ، وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعِ حَسَنَةُ الصَّدَقَةِ، وَمَا أُخِذَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ، وَفِي كُلِّ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ خَمْسَةُ دَرَاهِمَ، وَمَا زَادَ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ. وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ شَيْءٌ. وَفَى كُلِّ أَرْبَعِينَ دِينَارًا دِينَارٌ. وَالصَّدَقَةُ لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِأَهْلِ بَيْتِهِ، إِنَّمَا هِيَ الزَّكَاةُ تُزَكَّى بِهَا أَنْفُسُهُمْ وَلِلْفُقَرَاءِ الْمُؤْمِنِينَ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَلَا فِي رَقِيقٍ، وَلَا فِي مَزْرَعَةٍ، وَلَا عُمَّالِهَا شَيْءٌ إِذَا كَانَتْ تُؤَدَّى صَدَقَتُهَا مِنَ الْعُشْرِ، وَإِنَّهُ لَيْسَ فِي عَبْدٍ مُسْلِمٍ وَلَا فِي فَرَسِهِ شَيْءٌ ". وَكَانَ فِي الْكِتَابِ: " أَنَّ أَكْبَرَ الْكَبَائِرِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: إِشْرَاكٌ بِاللَّهِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الْمُؤْمِنَةِ بِغَيْرِ حَقٍّ، وَالْفِرَارُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَوْمَ الزَّحْفِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَرَمْيُ الْمُحْصَنَةِ، وَتَعَلُّمُ السِّحْرِ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَإِنَّ الْعُمْرَةَ الْحَجُّ الْأَصْغَرُ، وَلَا يَمَسُّ الْقُرْآنَ إِلَّا طَاهِرٌ، وَلَا طَلَاقَ قَبْلَ أَمْلَاكٍ، وَلَا عَتَاقَ حَتَّى تَبْتَاعَ، وَلَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدُكُمْ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَشِقُّهُ بَادٍ، وَلَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدُكُمْ عَاقِصًا شَعْرَهُ» ". قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَبَقِيَّتُهُ رَوَاهُ النَّسَائِيُّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْحَرَسِيُّ ; وَثَّقَهُ أَحْمَدُ، وَتَكَلَّمَ فِيهِ ابْنُ مَعِينٍ، وَقَالَ أَحْمَدُ: إِنَّ الْحَدِيثَ صَحِيحٌ. قُلْتُ: وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کی طرف ایک مکتوب لکھا تھا، جس میں فرائض، سنن اور دیت سے متعلق احکام تھے، آپ نے حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے ہمراہ وہ خط بھیجا تھا وہ خط اہل یمن سامنے پڑھا گیا ،اس کے الفاظ یہ ہیں:’’اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے، یہ حضرت محمدنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے شرحبیل بن عبدکلال،حارث بن عبد کلال ،نعیم بن عبد کلال اور ذی معافر اور ہمدان قبیلے کے اکابرین کی طرف ہے :امابعد!تمہارا قاصد واپس آیا، اور تمہیں جو مال غنیمت عطا کیا گیا، اس میں سے پانچواں حصہ ،اللہ تعالیٰ کے لئے ہے ،اور وہ چیز ہے، جو الله تعالیٰ نے اہل ایمان پر عشر لا زم کیا ہے، جو زمین کی پیدوار کے حوالے سے ہے ،وہ زمین جو بارش کے ذریعے سیراب ہو ،یا جو چشمے والی ہو، یا جو بارانی ہو، (یعنی ہر وہ زمین جو قدرتی طریقے سے سیراب ہوتی ہو ) اس میں عشر لازم ہو گا، جبکہ اس کی پیداوار پانچ وسق تک پہنچ جائے، اور ہر پانچ سائمہ اونٹوں میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی ، یہاں تک کہ وہ چوبیسں تک پہنچ جائیں، اگر چوبیسں سے ایک بھی زیادہ ہو جائے،تو بنت مخاض کی ادائیگی لازم ہوگئی، اگر بنت مخاض نہیں ملتی ہے،توابن لبون مذکر کی ادائیگی لازم ہوگی،یہ حکم پنتیس تک ہے اگر وہ پینتیس سے ایک بھی زیادہ ہوجائے ،تو اس میں بنت لبون کی ادائیگی لازم ہوگئی، یہ حکم پینتالیس تک ہے ،اگر وہ پینتالیس سے ایک بھی زیادہ ہوجائیں ،تو اس میں ایک حقہ کی ادائیگی لازم ہوگی، جس کو جفتی کے لئے دیا جا سکے، یہ حکم ساٹھ تک ہے، اگر وہ ساٹھ سے ایک بھی زیادہ ہوجائیں تو ان میں جزعہ کی ادائیگی لازم ہوگی ،یہاں تک کہ وہ پچھتر تک بن جائیں، اگر وہ پچھتر سے ایک بھی زیادہ ہوجائیں تو ان میں دو بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی، یہاں تک کہ وہ نوّے تک پہنچ جائیں، اگر وہ ایک بھی زیادہ ہوجائیں تو ان میں دو حقیہ کی ادائیگی لازم ہوگی ، جوجفتی کے لئے دیئےجاسکیں، یہ حکم ایک سوبیس تک کے لئے ہوگا۔ اگر ایک سو بیس سے زیادہ ہو جائیں تو ہر چالیس میں ایک بنت لبون، کی اور ہر پچاس میں ایک حقہ کی، جسے جفتی کےلئے دیا جا سکے، ادائیگی لازم ہو گی، اور ہرتیس گائیوں میں ایک گائے کی ادائیگی لازم ہوگی ،جو جزع یا جز عہ ہو ،اور ہر چالیس گائیوں میں ایک گائے کی ادا ئیگی لازم ہوگی ، اور ہر چالیس بکریوں میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی، یہاں تک کہ وہ ایک سوبیس تک پہنچ جائیں، اگر وہ ایک سو بیس سے ایک بھی زیادہ ہو جائیں، تو ان میں دو بکر یوں کی ادائیگی لازم ہو گی، یہاں تک کہ وہ دوسوتک پہنچ جا ئیں اگر ایک بھی زیادہ ہوجائے تو ان میں تین بکریوں کی ادائیگی لازم ہوگی، یہاں تک کہ وہ تین سو تک پہنچ جائیں ،اگر وہ زیادہ ہوجائیں تو ہر ایک سو بکر یوں میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہوگی۔ زکوٰة میں کوئی ایسا جانور وصول نہیں کیا جائے گا جو محفلہ (وہ مادہ جانور، جس کا دودھ کچھ دن تک نہ دوہا گیا ہو، تا کہ یہ ظاہر ہے کہ وہ زیادہ دودھ دینے والا جانور ہے) ہو، بوڑھا ہو ،لنگڑاہو ،کانا ہو، یا بکرا ہو، اور (زکوٰة کی وصولی کےلئے )متفرق مال کو اکٹھانہیں کیا جائے گا، اور اکٹھے مال کو متفرق نہیں کیا جائے گا ،اچھے طریقے سے زکوٰۃ وصول کی جائے گی ،جو چیز دو حصے داروں سے لی جائے گی، تو وہ ان دونوں کے درمیان برابری کی بنیاد پر تقسیم ہوگی۔ چاندی کے پانچ اوقیہ میں، پانچ درہم کی ادائیگی لازم ہوگی جو اس سے زیادہ ہو تو ہر چالیس درہموں میں ایک درہم کی ادائیگی لازم ہوگی، اور جو چاندی پانچ اوقیہ سے کم ہو، اس میں کوئی ادائیگی لازم نہیں ہوگی، ہر چالیس دینار میں ایک دینار کی ادائیگی لازم ہو گی اور صدقہ (یعنی زکوٰۃ) محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور اس کے اہل بیت کے لئے حلال نہیں ہے، یہ زکوٰة ہے جس کے ذریعے اُن لوگوں کے وجود پاک کیے جاتے ہیں، اور یہ غریب مومنین کے لئے ہوگی، اللہ کی راہ میں خرچ ہوگی، غلاموں کو( آزاد کرنے )کے لئے خرچ نہیں ہوگی، یہ کھیتی باڑی میں خرچ نہیں ہوگی، اور نہ ہی اس کی وصولی کے اہلکاروں کو کچھ دیا جائے گا، جبکہ’’عشر‘‘ میں سے اس کی زکوٰۃ ادا کر دی گئی ہو، اور مسلمان کے غلام ،یا اس کے گھوڑے میں کوئی ادائیگی لازم نہیں ہوگی‘‘۔ اس مکتوب میں یہ بات بھی تحریرتھی: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے بڑا کبیرہ گناہ ،کسی کو الله کا شریک قرار دینا، کسی مؤمن جان کو ناحق طور پرقتل کرنا، اللہ کی راہ میں میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کر نا، والدین کی نافرمانی کرنا، پاک دامن عورت پر الزام لگانا، جادو سیکھنا، سود کھانا ،یتیم کا مال کھانا ہے ،اور عمرہ ،حج اصغر ہے، اور قرآن پاک کو با وضو ہاتھ لگائے گا، اور ملکیت حاصل ہونے سے پہلے طلاق نہیں دی جاسکتی، اور غلام آزاد نہیں کیا جاسکتا، جب تک تم اسے خیر ید نہیں لیتے اور کوئی بھی شخص ایسی حالت میں ایک کپڑے میں نماز ادا نہ کرے کہ اس کا ایک پہلو ظاہر ہورہا ہے ،اور کوئی بھی شخص ایسی حالت میں نماز ادا نہ کرے ،کہ اس نے بالوں کا جوڑا بنایا ہوا ہو‘‘۔(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں ،اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے، اور اس روایت کا کچھ حصہ امام نسائی نے بھی نقل کیا ہے۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ،اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤدحرسی ہے ،جسے امام احمد نے’’ ثقہ‘‘ قرار دیا ہے ،یحییٰ بن معین نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے ،امام احمد کہتے ہیں: یہ حدیث مستند ہے۔ میں یہ کہتا ہوں : اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔
عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Zakat] › Chapter of it in the Zakat statement] · Hadith 4384
