مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابٌ فِيمَنْ نَامَ عَنْ صَلَاةٍ أَوْ نَسِيَهَا] · حديث 1792
1792 - «عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَمَّا انْصَرَفْنَا مِنْ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " مَنْ يَحْرُسُنَا اللَّيْلَةَ؟ " قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَقُلْتُ: أَنَا. قَالَ: " إِنَّكَ تَنَامُ "، ثُمَّ أَعَادَ: " مَنْ يَحْرُسُنَا اللَّيْلَةَ؟ " قُلْتُ: أَنَا. قَالَ: " إِنَّكَ تَنَامُ "، ثُمَّ عَادَ " مَنْ يَحْرُسُنَا اللَّيْلَةَ؟ قُلْتُ: أَنَا. قَالَ: " إِنَّكَ تَنَامُ " حَتَّى عَادَ مِرَارًا. قُلْتُ: أَنَا يَا رَسُولُ اللَّهِ. قَالَ: " فَأَنْتَ إِذًا ". قَالَ: فَحَرَسْتُهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ أَدْرَكَنِي قَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِنَّكَ تَنَامُ، فَنِمْتُ، فَمَا أَيْقَظَنَا إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ فِي ظُهُورِنَا، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَنَعَ كَمَا كَانَ يَصْنَعُ مِنَ الْوُضُوءِ وَرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا الصُّبْحَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: " لَوْ أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَرَادَ أَنْ لَا تَنَامُوا عَنْهَا لَمْ تَنَامُوا، وَلَكِنْ أَرَادَ أَنْ يَكُونَ لِمَنْ بَعْدَكُمْ، فَهَكَذَا لِمَنْ نَامَ أَوْ نَسِيَ ". قَالَ: ثُمَّ إِنَّ نَاقَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِبِلَ الْقَوْمِ تَفَرَّقَتْ، فَخَرَجَ النَّاسُ فِي طَلَبِهَا فَجَاءُوا بِإِبِلِهِمْ إِلَّا نَاقَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " خُذْهَا هُنَا " فَأَخَذْتُ حَيْثُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ فَوَجَدْتُ زِمَامَهَا قَدِ الْتَوَى عَلَى شَجَرَةٍ مَا كَانَتْ لِتَحُلَّهَا إِلَّا يَدٌ. قَالَ: فَجِئْتُ بِهَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ وَجَدْتُ زِمَامَهَا مُلْتَوٍ عَلَى شَجَرَةٍ مَا كَانَتْ لِتَحُلَّهَا إِلَّا يَدٌ. قَالَ: وَنَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْفَتْحُ». قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ عَنْهُمْ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ وَقَدِ اخْتَلَطَ فِي آخِرِ عُمُرِهِ.
حضرت عبداللہ بن مسعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ہم لوگ غزوہ حدیبیہ سے واپس آ رہے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : آج رات کون ہمارا پہرا دے گا، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم سو جاؤ گے پھر آپ نے دوبارہ دریافت کیا: آج کو ن ہمارا پہرا دے گا، میں نے عرض کی : میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم سو جاؤ گے پھر آپ نے دوبارہ دریافت کیا : آج رات کون ہمارا پہرا دے گا ، میں نے عرض کی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا تم سو جاؤ گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات کئی مرتبہ دہرائی میں نے یہی عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں ایسا کروں گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو پھر تم ایسا کر لو راوی کہتے ہیں : میں ان لوگوں کی خاطر جاگتا رہا یہاں تک کہ جب صبح صادق کا وقت قریب آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمان کے مطابق مجھے (نیند )آ گئی اور یہ کہ اپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ تم سو جاؤ گے ، تو میں سو گیا یہاں تک کہ سورج کی تپش نے ہمیں بیدار کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی طرح وضو کیا جس طرح آپ پہلے وضو کرتے تھے، اور فجر کی دو رکعتیں ادا کیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا : اگر اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کرتا کہ تم اس نماز کے حوالے سے نہ سو جائے یا بھول جائے اس کے لیے اسی طرح حکم ہو گا۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی اور لوگوں کے اونٹ ! ادھر ادھر بکھر گئے لوگ ان کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے وہ اپنے اونٹ لے کر آئے صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی نہیں آئی حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم اسے وہاں سے پکڑ کے لے آؤ میں اسے وہاں سے پکڑ لایا جہاں کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بتایا تھا میں نے اسے پایا کہ اس اونٹنی کی لگام ایک درخت میں اٹکی ہوئی تھی، جسے صرف ہاتھ کے ذریعے چھڑایا جا سکتا تھا راوی بیان کرتے ہیں : میں اس اونٹنی کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا میں نے عرض کی : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ معبوث کیا ہے میں نے اس کی لگام کو پایا کہ وہ ایک درخت میں اٹکی ہوئی تھی، جسے صرف ہاتھ کے ذریعے چھڑایا جا سکتا تھا راوی بیان کرتے ہیں : کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سورت فتح نازل ہوئی ۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں کہ ان صحابی کے حوالے سے ایک اور روایت منقول ہے، جو ابو داؤد نے نقل کی ہے ، اور وہ اس کے علاوہ ہے۔ یہ روایت امام احمد امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام ابو یعلیٰ نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمٰن بن عبداللہ المسعودی ہے، جو آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہو گیا تھا۔
لَمَّا انْصَرَفْنَا مِنْ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ, ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ
Hadith 1792
