مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابٌ مِنْهُ فِي وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ] · حديث 1777
1777 - وَعَنْ أَبِي الرَّبِيعِ قَالَ: «كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - فِي جِنَازَةٍ، فَسَمِعْتُ صَوْتَ إِنْسَانٍ يَصِيحُ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ فَأَسْكَتَهُ. قُلْتُ: أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، لِمَ أَسْكَتَّهُ؟ قَالَ: إِنَّهُ يَتَأَذَّى بِهِ الْمَيِّتُ حَتَّى يَدْخُلَ قَبْرَهُ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي أُصَلِّي مَعَكَ الصُّبْحَ ثُمَّ أَلْتَفِتُ فَلَا أَرَى وَجْهَ جَلِيسِي، وَأَحْيَانًا تُسْفِرُ. قَالَ: كَذَلِكَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي، وَأَحْبَبْتُ أَنْ أُصَلِّيَهَا كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّيهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ. وَأَبُو الرَّبِيعِ قَالَ فِيهِ الدَّارَقُطْنِيُّ: مَجْهُولٌ.
ابو ربیع بیان کرتے ہیں : میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک جنازے میں شریک ہوا ، میں نے ایک شخص کو بلند آواز میں چیخ کر کچھ کہتے ہوئے سنا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو پیغام بھیج کو اسے خاموش کروایا میں نے کہا : اے ابو عبدالرحمٰن آپ نے اسے خاموش کیوں کروایا ہے انہوں نے فرمایا: اس کی وجہ سے میت کو اذیت ہوتی ہے، جب تک وہ میت اپنی قبر میں داخل نہیں ہو جاتی میں نے ان سے کہا : میں نے آپ کی اقتداء میں صبح کی نماز ادا کی تھی، پھر میں نے توجہ کی تو مجھے اپنے ساتھ والا کوئی شخص نظر نہیں آ رہا تھا اور بعض اوقات آپ اسے روشنی میں ادا کرتے ہیں تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ، تو مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں اسے اسی طرح ادا کروں جس طرح میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسے ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ابو ربیع نامی راوی کے بارے میں امام دار قطنی نے یہ فرمایا ہے کہ یہ مجہول ہے۔
صَوْتَ إِنْسَانٍ يَصِيحُ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ فَأَسْكَتَهُ. قُلْتُ: أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، لِمَ أَسْكَتَّهُ؟ ← كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي جَنَازَةٍ ← أَبِي الرَّبِيعِ
Hadith 1777
