مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ وَحَقْنِهَا لِلدَّمِ] · حديث 1664
1664 - وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ: سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " «الصَّلَاةُ الْمَكْتُوبَةُ تُكَفِّرُ مَا قَبْلَهَا إِلَى الصَّلَاةِ الْأُخْرَى، وَالْجُمْعَةُ تَكْفُرُ مَا قَبِلَهَا إِلَى الْجُمْعَةِ الْأُخْرَى، وَشَهْرُ رَمَضَانَ يُكَفِّرُ مَا قَبْلُهُ إِلَى شَهْرِ رَمَضَانَ، وَالْحَجُّ يُكَفِّرُ مَا قَبْلُهُ إِلَى الْحَجِّ "، ثُمَّ قَالَ: " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ أَنْ تَحُجَّ إِلَّا مَعَ زَوْجٍ أَوْ ذِي مَحْرَمٍ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْمُفَضَّلُ بْنُ صَدَقَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.
حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کویہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: " فرض نماز اس سے پہلے کی دوسری نماز کے درمیاں کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے، اور جمعہ اس سے پہلے والے جمعہ کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے، اور رمضان کا مہینہ اس سے پہلے والے رمضان کے مہینے تک کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے، اور حج اس سے پہلے والے حج کے درمیاں کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے"۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی : " کسی مسلمان عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے، کہ وہ حج کے لیے جائے ، البتہ اگر اس کا شوہر ، یا کوئی محرم عزیز ساتھ ہو ، تو حکم مختلف ہے "۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مفضل بن صدقہ ہے، اور وہ متروک الحدیث ہے۔
أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ،
Hadith 1664
