مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الزَّكَاةِ] ‹ [بَابُ الصَّدَقَةِ عَلَى الْمَيِّتِ] · حديث 4768
4768 - وَعَنْ سَهْلِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ: «جِئْتُ إِلَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: تُوُفِّيَتْ أُمِّي وَلَمْ تُوصِ وَلَمْ تَتَصَدَّقْ، فَهَلْ يَقْبَلُ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا؟ فَهَلْ يَنْفَعُهَا ذَلِكَ؟ قَالَ: " نَعَمْ وَلَوْ بِكُرَاعِ شَاةٍ مُحْتَرِقٍ». قُلْتُ: لِسَعْدٍ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ كُرَيْبٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
حضرت سہل بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے عرض کی: میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے، وہ کوئی وصیت نہیں کرسکیں، اور صدقہ نہیں کرسکیں، اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کردوں، تو کیا یہ قبول ہو گا ؟ کیا یہ اُنہیں فائدہ دے گا؟ نبی اکرم صلى الله عليہ وسلم نے ارشادفرمایا: جی ہاں ! خواہ تم ایک جلے ہوئے پائے کو (صدقہ کرو، تو اس کا بھی اُنہیں اجر ملے گا)"۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث امام ابوداؤد نے نقل کیا ہے، لیکن وہ اس حدیث کے علاوہ ہے۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کریب ہے، اور وہ ضعیف ہے۔
سهل بن عبادة.
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Zakat] › [Chapter of Charity for the Dead] · Hadith 4768
