مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الزَّكَاةِ] ‹ [بَابٌ فِي الِادِّخَارِ] · حديث 4696
4696 - وَفِي رِوَايَةٍ: «تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ فَوُجِدَ فِي مِئْزَرِهِ [دِينَارٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " كَيَّةٌ "، ثُمَّ تُوُفِّيَ آخَرُ فَوُجِدَ فِي مِئْزَرِهِ] دِينَارَانِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " كَيَّتَانِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَبَعْضُ طُرُقِهِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِيهِ كَلَامٌ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا فِي الزُّهْدِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: اہلِ صفہ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کا انتقال ہو گیا اس کے تہبند میں ایک دینارملا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ داغ لگانے والی ایک چیز ہے پھر ایک اور شخص کا انتقال ہو گیا اس کے تہبند میں دو دینار ملے تو نبی اکرم صلى الله عليہ وسلم نے ارشادفرمایا: یہ داغ لگانے والی دو چیزیں ہیں۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ اس کے بعض طرق کے رجال ’’صحیح‘‘ کے رجال ہیں البتہ شہر بن حوشب کا معاملہ مختلف ہے وہ ثقہ ہے، لیکن اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں، اس نوعیت سے متعلق دیگر احادیث زہد سے متعلق باب میں آگے آئیں گی،اگر اللہ نے چاہا۔
رَسُولُ اللَّهِ كَيَّةٌ ثُمَّ تُوُفِّيَ آخَرُ فَوُجِدَ فِي مِئْزَرِهِ] دِينَارَانِ ← وَفِي رِوَايَةٍ: «تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ فَوُجِدَ فِي مِئْزَرِهِ [دِينَارٌ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Zakat] › [Chapter on Savings] · Hadith 4696
