مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الزَّكَاةِ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِي السُّؤَالِ] · حديث 4516
4516 - وَعَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «دَخَلَ رَجُلَانِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلَانِهِ فِي شَيْءٍ، فَأَعَانَهُمَا بِدِينَارَيْنِ، فَخَرَجَا فَإِذَا هُمَا يُثْنِيَانِ خَيْرًا، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْتُ فُلَانًا وَفُلَانًا خَرَجَا مِنْ عِنْدِكَ يُثْنِيَانِ خَيْرًا. قَالَ: " لَكِنَّ فُلَانًا مَا يَقُولُ ذَلِكَ، وَقَدْ أَعْطَيْتُهُ مَا بَيْنَ عَشَرَةٍ إِلَى مِائَةٍ فَمَا يَقُولُ ذَلِكَ؟ وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَخْرُجُ بِصَدَقَتِهِ مِنْ عِنْدِي مُتَأَبِّطُهَا وَإِنَّمَا هِيَ لَهُ نَارٌ ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تُعْطِيهِ وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّهَا لَهُ نَارٌ؟ قَالَ: " فَمَا أَصْنَعُ؟ يَأْتُونِي يَسْأَلُونِي، وَيَأْبَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِيَ الْبُخْلَ». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: دوآدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز مانگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دینار کے ذریعے ان کی مدد کی، پھر وہ دونوں نکلے، تو وہ دونوں تعریف کر رہے تھے، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے عرض کی: میں نے فلاں اور فلاں کو دیکھا، وہ دونوں آپ کے پاس سے نکلے اور وہ دونوں تعریف کر رہے تھے۔ نبی اکرم ا نے فرمایا:، لیکن فلاں کو تو یہ بات نہیں کہنی چاہیے، اسے تو میں نے دس سے لے کر ایک سو کے درمیان کی رقم عطا کی ہے وہ ایسا کیوں کہہ رہا تھا؟ تم میں سے کوئی ایک شخص میرے پاس سے کوئی چیز لے کر بغل میں دبا کے نکلتا ہے، اور وہ چیز اس کے لئے آگ ہوتی ہے، میں نے عرض کی: یا رسول الله! پھر آپ اسے کیوں دے دیتے ہیں؟ جبکہ آپ یہ بات جانتے ہیں، وہ چیز اس کے لئے آگ ہوتی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر میں کیا کروں؟ وہ میرے پاس آ کر مجھے سے مانگتے ہیں اور الله تعالی میرے لئے بخل سے انکار کرتا ہے (یعنی اسے میری طرف سے بخل منظور نہیں ہے)۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: ’’صحیح‘‘ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔
عُمَرَ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Zakat] › [Chapter on what came in the question] · Hadith 4516
