مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الزَّكَاةِ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِي السُّؤَالِ] · حديث 4504
4504 - وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «سِتَّةُ أَيَّامٍ ثُمَّ اعْقِلْ يَا أَبَا ذَرٍّ مَا يُقَالُ لَكَ بَعْدُ ". فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ السَّابِعُ قَالَ: " أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ فِي سِرِّ أَمْرِكَ وَعَلَانِيَتِهِ، وَإِذَا أَسَأْتَ فَأَحْسِنْ، وَلَا تَسْأَلَنَّ أَحَدًا شَيْئًا وَإِنْ سَقَطَ سَوْطُكَ، وَلَا تَقْبِضْ أَمَانَةً [وَلَا تَقْضِ بَيْنَ اثْنَيْنِ]». رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: ’’چھ دن ہیں، اے ابوذر! سمجھ لو کہ اس کے بعد تم سے کیا کہا جائے گا؟ جب ساتواں دن آیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: میں تمہیں اپنے معاملے کے پوشیدہ اور علانیہ، ہر حوالے سے اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے کی تلقین کرتا ہوں، جب تم کوئی برائی کرو، تو اچھائی بھی کر لو، اور کبھی تم کسی سے کوئی چیز نہ مانگنا، خواہ تمہاری چھڑی گر جائے، اورتم امانت قبضے میں نہ لینا، اورتم دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ دینا‘‘۔ یہ تمام روایات امام احمد نے نقل لی ہیں اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Zakat] › [Chapter on what came in the question] · Hadith 4504
