مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الزَّكَاةِ] ‹ [بَابُ الصَّدَقَةِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِآلِهِ وَلِمَوَالِيهِمْ] · حديث 4492
4492 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنْ فِتْيَانًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَعْمِلْنَا عَلَى الصَّدَقَةِ، نُصِيبُ مِنْهَا مَا يُصِيبُ النَّاسُ، وَنُؤَدِّي كَمَا يُؤَدُّونَ، فَقَالَ: " إِنَّا آلَ مُحَمَّدٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ، وَهِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ، وَلَكِنْ مَا ظَنُّكُمْ إِذَا أَخَذْتُ بِحَلْقَةِ بَابِ الْجَنَّةِ هَلْ أُؤْثِرُ عَلَيْكُمْ أَحَدًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ وَالِدُ ابْنِ الْمَدِينِيِّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بنو ہاشم سے تعلق رکھنے والے کچھ نوجوان ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت حاضر ہوئے ،انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ ہمیں زکوٰۃ وصول کرنے کا اہلکار مقرر کریں، تا کہ ہم اس کے حوالے سے وہ چیز حاصل کر لیں جولوگ حاصل کرتے ہیں، ہم بھی اسی طرح ادائیگی کریں گے ، جس طرح لوگ ادائیگی کرتے ہیں ،تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: بے شک ہم، آل محمد، ہمارے لئے صدقہ حلال نہیں ہے، یہ لوگوں کا میل ہے ،لیکن تمہارے بارے میں میرا یہ گمان نہیں ہے ،کہ جب میں جنت کی کنڈی کو پکڑوں گا، تو کسی کوتم پرترجیح دوں گا‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نےمعجم کبیر میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عبد الله بن جعفر ہے، جوعلی بن مدینی کا والد ہے، اور وہ ضعیف ہے۔
ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنْ فِتْيَانًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Zakat] › [Chapter of charity for the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, for his families and their followers] · Hadith 4492
