مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الزَّكَاةِ] ‹ بَابُ التَّعَدِّي فِي الصَّدَقَةِ] · حديث 4444
4444 - «وَعَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ قَالَ: جَلَسَ إِلَيْنَا شَيْخٌ فِي دُكَّانِ أَيُّوبَ فَسَمِعَ الْقَوْمَ يَتَحَدَّثُونَ فَقَالَ: حَدَّثَنِي مَوْلَايَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُ: مَا اسْمُهُ؟ قَالَ: قُرَّةُ بْنُ دُعْمُوصٍ النُّمَيْرِيُّ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَوْلَهُ النَّاسُ، فَجَعَلْتُ أُرِيدُ أَنْ أَدْنُوَ مِنْهُ فَلَمْ أَسْتَطِعْ فَنَادَيْتُهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَغْفِرْ لِلْغُلَامِ النُّمَيْرِيِّ، قَالَ: " غَفَرَ اللَّهُ لَكَ "، قَالَ: وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ سَاعِيًا فَلَمَّا رَجَعَ رَجَعَ بِإِبِلٍ جِلَّةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَيْتَ هِلَالَ بْنَ عَامِرٍ، وَنُمَيْرَ بْنَ عَامِرٍ، وَعَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ، فَأَخَذْتَ جِلَّةَ أَمْوَالِهِمْ؟ ". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي سَمِعْتُكَ تَذْكُرُ الْغَزْوَ فَأَحْبَبْتُ أَنْ آتِيَكَ بِإِبِلٍ جِلَّةٍ تَرْكَبُهَا وَتَحْمِلُ عَلَيْهَا. فَقَالَ: " وَاللَّهِ لَلَّذِي تَرَكْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الَّذِي أَخَذْتَ، ارْدُدْهَا وَخُذْ مِنْ حَوَاشِي أَمْوَالِهِمْ وَصَدَقَاتِهِمْ ". قَالَ: فَسَمِعْتُ الْمُسْلِمِينَ يُسَمُّونَ تِلْكَ الْإِبِلَ الْمَسَانَّ الْمُجَاهِدَاتِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
جریر بن حازم بیان کرتے ہیں: ایوب کے چبوترے پر، ایک صاحب ہمارے پاس آ کر بیٹھے، انہوں نے لوگوں کو بات چیت کرتے ہوئے سنا ،تو یہ بات بیان کی : میرے آقا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیث بیان کی ہے ،میں نےان سے دریافت کیا: ان کا نام کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: حضرت قرہ بن دعموص نمیری رضی اللہ عنہ ،وہ بیان کرتے ہیں : مدینہ منورہ آیا، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ،لوگ آپ کے اردگرد موجود تھے، میں آپ کے قریب ہونے کی کوشش کرنے لگا ،میں ایسا نہیں کر پایا ،تو میں نے آپ کو بلند آواز میں پکار کر کہا: یارسول اللہ! آپ نمیری فرد کے لئے دعائے مغفرت کیجئے ! نبی اکرم مصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کرے،راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ضحاک بن قیسرضی اللہ عنہ کوز کوٰۃ وصول کرنے والے کے طور پر بھیجا، جب وہ واپس آ ئےتو وہ عمدہ اونٹ لے کر آئے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ہلال بن عامر ،نمیر بن عامر اور عامر بن ربیعہ کے پاس گئے اور پھر تم نے ان کے بہترین اموال حاصل کر لئے؟ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے آپ کو سناتھا کہ آپ کسی جنگ کا ذکر کر رہے تھے، تو مجھے یہ بات اچھی لگی کہ میں آپ کے پاس عمدہ اونٹ لے کے آؤں ،تا کہ آپ ان پر سوار ہوسکیں اور سواری کے لئے دے سکیں ،نبی اکرم مسلم نے ارشادفرمایا: اللہ کی قسم! جسے تم چھوڑ کے آئے ہو ،وہ میرے نزدیک ان سے زیادہ پسندیدہ ہیں، جوتم نے وصول کیے ہیں، تم انہیں واپس کر دو! اور درمیانے درجے کے اموال اورصدقات حاصل کرو‘‘۔ راوی کہتے ہیں: تو میں نے مسلمانوں کو سنا کہ انہوں نے ان اونٹوں کا نام ”مسان مجاہدات‘‘رکھا تھا۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ،اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ،جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے، اس روایت کے رجال’’صحیح‘‘کے رجال ہیں۔
قُرَّةُ بْنُ دَعْمُوصٍ النُّمَيْرِيُّ ← رَسُولِ اللَّهِ فَقُلْتُ لَهُ: مَا اسْمُهُ؟ ← مولاي ← الْقَوْمَ يَتَحَدَّثُونَ ← جَلَسَ إِلَيْنَا شَيْخٌ فِي دُكَّانِ أَيُّوبَ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Zakat] › Chapter of transgression on charity] · Hadith 4444
