مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ باب · حديث 4294
4294 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: «بَيْنَا أَنَا أَسِيرُ بِجَنَبَاتِ بَدْرٍ إِذْ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ حُفْرَةٍ فِي عُنُقِهِ سِلْسِلَةٌ فَنَادَانِي: يَا عَبْدَ اللَّهِ اسْقِنِي. فَلَا أَدْرِي أَعَرَفَ اسْمِي أَوْ دَعَانِي بِدَعَايَةِ الْعَرَبِ. وَخَرَجَ رَجُلٌ فِي ذَلِكَ الْحَفِيرِ فِي يَدِهِ سَوْطٌ فَنَادَانِي: يَا عَبْدَ اللَّهِ لَا تَسْقِهِ فَإِنَّهُ كَافِرٌ. ثُمَّ ضَرَبَهُ بِالسَّوْطِ حَتَّى عَادَ إِلَى حُفْرَتِهِ. فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْرِعًا فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ لِي: " أَوَ قَدْ رَأَيْتَهُ؟ ". قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: " ذَاكَ عَدُوُّ اللَّهِ أَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ، وَذَاكَ عَذَابُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں بدر کے آس پاس سفر کر رہا تھا اسی دوران ایک گڑھے میں سے ایک شخص تھا جس کی گردن میں ایک بیڑی تھی اس نے مجھے پکار کر کہا: اے عبداللہ! تم مجھے کچھ پلا ؤ! مجھے انداز ہ نہیں ہوا کہ کیا اس نے میرا نام لیا ہے ، یا مجھے عربوں کے مخصوص طریقے کے مطابق بلایا ہے پھر اس گڑھے میں سے ایک اورشخص نکلا جس کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی اس نے مجھے پکار کر کہا: اے عبداللہ ! تم اسے نہ پلاؤ کیونکہ یہ کافر ہے پھر اس نے اسے چھڑی ماری پھر اسے واپس گڑھے میں لے گیا پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جلدی سے حاضر ہوا میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا تو آپ نے دریافت کیا: کیا تم نے اسے دیکھا تھا؟ میں نے عرض کی : جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اللہ کا دشمن ابوجہل بن ہشام تھا اور یہ اس کا عذاب ہے ،جو قیامت تک ہوتا رہے گا۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عبد الله بن محمد بن مغیرہ ہے، اور وہ ضعیف ہے۔
أَسِيرُ بِجَنَبَاتِ بَدْرٍ ← بَيْنَا ← ابْنِ عُمَرَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The gates of the two feasts] › Chapter · Hadith 4294
