مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ باب · حديث 4264
4264 - وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " «إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا، فَإِذَا أُدْخِلَ الْمُؤْمِنُ قَبَرَهُ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ، جَاءَهُ مَلَكٌ شَدِيدُ الِانْتِهَارِ، فَيَقُولُ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ: أَقُولُ: إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ وَعَبْدُهُ. فَيَقُولُ لَهُ الْمَلَكُ: انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ الَّذِي كَانَ لَكَ فِي النَّارِ قَدْ أَنْجَاكَ اللَّهُ مِنْهُ أَبْدَلَكَ بِمَقْعَدِكَ الَّذِي تَرَى مِنَ النَّارِ مَقْعَدَكَ الَّذِي تَرَى مِنَ الْجَنَّةِ. فَيَرَاهُمَا كِلَاهُمَا، فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ: دَعُونِي أُبَشِّرُ أَهْلِي. فَيُقَالُ لَهُ: اسْكُنْ. وَأَمَّا الْمُنَافِقُ فَيَقْعُدُ إِذَا تَوَلَّى عَنْهُ أَهْلَهُ فَيَقُولُ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي، أَقُولُ مَا تَقُولُ النَّاسُ. فَيُقَالُ: لَا دَرَيْتَ، هَذَا مَقْعَدُكُ الَّذِي كَانَ لَكَ فِي الْجَنَّةِ، قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ مَقْعَدَكَ مِنَ النَّارِ " قَالَ جَابِرٌ: " فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا "، فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يُبْعَثُ كُلُّ عَبْدٍ فِي الْقَبْرِ عَلَى مَا مَاتَ عَلَيْهِ ; الْمُؤْمِنُ عَلَى إِيمَانِهِ وَالْمُنَافِقُ عَلَى نِفَاقِهِ». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ: " «يُبْعَثُ كُلُّ عَبْدٍ فِي الْقَبْرِ عَلَى مَا مَاتَ عَلَيْهِ» ". فَقَطْ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: اس امت کو ان کی قبروں میں آزمائش کا شکار کیا جائے گا مؤمن کو جب اس کی قبر میں داخل کیا جا تا ہے ،اور اس کے ساتھی اسے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں تو ایک فرشتہ اس کے پاس آتا ہے ،جو ہیبت ناک ہوتا ہے وہ اس سے کہتا ہے ان صاحب کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟ تو وہ مؤمن کہتا ہے یہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں فرشتہ اس سے کہتا ہے تم اس ٹھکانے کی طرف دیکھو جو تمہارا جہنم میں ہونا تھا اللہ تعالیٰٰ نے تمہیں اس سے نجات عطا کر دی ہے ،اور جو تم نے ٹھکانہ جہنم میں دیکھا تھا اس کی جگہ نہیں وہ ٹھکانہ عطا کردیا ہے ، جو تم جنت میں دیکھو گے وہ ان دونوں ٹھکانوں کو دیکھ لیتا ہے ،تو وہ مؤمن کہتا ہے تم لوگ مجھے مہلت دو تا کہ میں یہ خوش خبری اپنے گھر والوں کو سنا دوں تواس سے کہا جاتا ہے تم پر سکون رہو جہاں تک منافق کاتعلق ہے ، تو وہ بیٹھتا ہے، جب اس کے اہل خانہ اسے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں فرشتہ اس سے دریافت کرتا ہے ان صاحب کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟ تو وہ کہتا ہے مجھے نہیں معلوم ، میں وہی کہتا تھا جولوگ کہتے تھے، تو یہ کہا جا تا ہے: تم نے سمجھ بوجھ حاصل نہیں کی ہی تمہار اوہ ممکنہ ٹھکانہ ہے ،جو جنت میں تمہارا ہونا تھا اللہ تعالیٰٰ نے اس کی جگہ نہیں جہنم کا ٹھکانہ عطا کر دیا ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تو وہ شخص ان دونوں ٹھکانوں کو دیکھ لیتا ہے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشادفرماتے ہوئے سنا ہے: ’’قبر میں ہر بندے کو اسی طریقے کے مطابق زندہ کیا جا تا ہے ،جس طرح وہ مرا تھا مؤمن کو اس کے ایمان پر اور منافقت کو اس کے نفاق پر اٹھایا جاتا ہے)‘‘۔ (علامہ ہثیمی فرماتے ہیں :) میں یہ کہتا ہوں : ’’صیحح‘‘ میں اس صرف کا یہ حصہ منقول ہے: ’’ہر بندے کو قبر میں اس پر اٹھایا جا تا ہے، جس پر وہ مرا تھا‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے جم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔
جَابِرٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The gates of the two feasts] › Chapter · Hadith 4264
