مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابٌ فِي الْمُحَافَظَةِ عَلَى الصَّلَاةِ لِوَقْتِهَا] · حديث 1678
1678 - وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ: «خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ سَبْعَةُ نَفَرٍ - أَرْبَعَةٌ مِنْ مَوَالِينَا، وَثَلَاثَةٌ مِنْ عَرَبِنَا - مُسْنِدِي ظُهُورِنَا إِلَى مَسْجِدِهِ فَقَالَ: " مَا أَجْلَسَكُمْ؟ " قُلْنَا: جَلَسْنَا نَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ. قَالَ: فَأَرَمَّ قَلِيلًا ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَقَالَ: " هَلْ تَدْرُونَ مَا يَقُولُ رَبُّكُمْ؟ " قُلْنَا: لَا. قَالَ: " فَإِنَّ رَبَّكُمْ يَقُولُ: مَنْ صَلَّى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ لِوَقْتِهَا، وَحَافَظَ عَلَيْهَا وَلَمْ يُضَيِّعْهَا اسْتِخْفَافًا لَحِقَهَا؛ فَلَهُ عَلَيَّ عَهْدٌ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَمْ يَصَلِّهَا لِوَقْتِهَا، وَلَمْ يُحَافِظْ عَلَيْهَا، وَضَيَّعَهَا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهَا - فَلَا عَهْدَ لَهُ عَلَيَّ، إِنْ شِئْتُ عَذَّبْتُهُ، وَإِنْ شِئْتُ غَفَرْتُ لَهُ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَرَوَاهُ أَحْمَدُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «بَيْنَا أَنَا جَالِسٌ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُسْنِدِي ظُهُورِنَا إِلَى قِبْلَةِ مَسْجِدِهِ إِذْ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الظُّهْرِ، فَقَالَ: فَذَكَرَ نَحْوَهُ». وَفِيهِ عِيسَى بْنُ الْمُسَيَّبِ الْبَجَلِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، ہم اس وقت سات افراد تھے ، جن میں سے چار کا تعلق موالی سے تھا اور تین کا تعلق عربوں سے تھا، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا: تم لوگ کیوں بیٹھے ہوئے ہو؟ ہم نے عرض کی : ہم نماز کے انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھوڑی دیر ٹھہرے رہے، پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ تمہارا پروردگار کیا فرماتا ہے؟ ہم نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا پروردگار یہ فرماتا ہے: جو شخص پانچ نمازوں کے ان کے وقت پر ادا کرتے گا، ان کو باقاعدگی سے ادا کرے گا، اور ان کے حق کو کمتر سمجھتے ہوئے انہیں ضائع نہیں کرے گا، تو اس شخس کے لیے میرے ذمے یہ عہد ہے کہ میں اسے جنت میں داخل کروں گا، اور جو شخص نماز کو اس کے مخصوص وقت پر ادا نہیں کرے گا، اس کی حفاظت نہیں کرے گا،اس کے حق کو کم سمجھتے ہوئے اسے ضائع کر دے گا، تو اس شخص کے لیے میرے ذمہ کوئی عہد نہیں ہوگا، اگر میں چاہوں گا، تو اسے عذاب دوں گا، اور اگر چاہوں گا، تو اس کی مغفرت کردوں گا"۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے، یہ روایت امام احمد نے بھی نقل کی ہے، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: " ایک مرتبہ ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، ہم نے اپنی پشت مسجد کی قبلہ والی دیوار کے ساتھ لگائی ہوئی تھی، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر کی نماز کی ادائیگی کے لئے ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے"۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن مسیب بجلی ہے ، اور وہ " ضعیف " ہے۔
کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [prayer book] › Chapter on preserving prayer for its time] · Hadith 1678
