مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ مَا يَجُوزُ مِنَ الْعَمَلِ فِي الصَّلَاةِ] · حديث 2482
2482 - وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «بَيْنَا نَحْنُ صُفُوفٌ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ إِذْ رَأَيْنَاهُ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا بَيْنَ يَدَيْهِ فِي الصَّلَاةِ لِيَأْخُذَهُ ثُمَّ يَتَنَاوَلَهُ لِيَأْخُذَهُ، ثُمَّ حِيلَ بَيْنَهُ، ثُمَّ تَأَخَّرَ وَتَأَخَّرْنَا ثُمَّ تَأَخَّرَ الثَّانِيَةَ وَتَأَخَّرْنَا، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْنَاكَ الْيَوْمَ تَصْنَعُ فِي صَلَاتِكَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَصْنَعُهُ قَالَ: " إِنِّي عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ بِمَا فِيهَا مِنَ الزَّهْرَةِ وَالنَّضْرَةِ فَتَنَاوَلْتُ قِطْفًا مِنْهَا لِآتِيَكُمْ بِهِ، وَلَوْ أَخَذْتُهُ لَأَكَلَ مِنْهُ مَنْ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَا يَنْقُصُونَهُ فَحِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، ثُمَّ عَرَضَتْ عَلَيَّ النَّارُ فَلَمَّا وَجَدْتُ حَرَّ شُعَاعِهَا تَأَخَّرْتُ، وَأَكْثَرُ مَنْ رَأَيْتُ فِيهَا النِّسَاءُ اللَّاتِي إِنِ ائْتُمِنَّ أَفْشَيْنَ، [وَإِنْ يُسْأَلْنَ بَخِلْنَ]، وَإِنْ سَأَلْنَ أَخْفَيْنَ - قَالَ زَكَرِيَّا: أَلْحَفْنَ - وَإِنْ أُعْطِينَ لَمْ يَشْكُرْنَ، وَرَأَيْتُ فِيهَا لِحَيَّ بْنَ عَمْرٍو يَجُرُّ قَصَبَهُ، وَأَشْبَهُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ مَعْبَدُ بْنُ أَكْثَمَ "، قَالَ مَعْبَدٌ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ يُخْشَى عَلَيَّ مِنْ شَبَهِهِ فَإِنَّهُ وَالِدٌ؟ قَالَ: " لَا أَنْتَ مُؤْمِنٌ وَهُوَ كَافِرٌ وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ جَمَعَ الْعَرَبَ عَلَى عِبَادَةِ الْأَصْنَامِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ.
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے صفوں میں نماز ادا کر رہے تھے یہ ظہر یا شاید عصر کی نماز کا واقعہ ہے، اسی دوران ہم نے نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے نماز کے دوران اپنے سامنے موجود کسی چیز کو پکڑنے کی کوشش کی پھر آپ کے اور اس کے درمیان کوئی رکاوٹ آ گئی پھر نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم پیچھے ہٹے تو ہم بھی پیچھے ہٹ گئے جب آپ نے سلام پھیرا تو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! آج ہم نے آپ کو نماز کے دوران ایسا کام کرتے دیکھا ہے، جو آپ پہلے نہیں کیا کرتے تھے نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے سامنے جنت کو پیش کیا گیا اور اس میں جو آرائش و زیبائش اور نعمتیں ہیں انہیں پیش کیا گیا میں نے اس جنت میں سے انگوروں کا ایک گچھہ پکڑنے کی کوشش کی تا کہ میں تم لوگوں کے لئے اسے حاصل کروں اگر میں اسے پکڑ لیتا تو آسمان اور زمین کے درمیان موجود ہر چیز اگر اس میں سے کھا لیتی تو اس نے پھر بھی کم نہیں ہونا تھا لیکن پھر میرے اور اسکے درمیان رکاوٹ آگئی پھر میرے سامنے آگ کو پیش کیا گیا جب میں نے اس کے شعلوں کی تپش محسوس کی تو میں پیچھے ہٹ گیا میں نے جہنم میں اکثریت ان خواتین کی پائی ہے جنہیں اگر امین بنایا جائے تو راز افشاء کر دیتی ہیں اگر ان سے کچھ مانگا جائے تو وہ بخل سے کام لیتی ہیں اگر کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا جائے تو بات پوشیدہ رکھتی ہیں، یہاں زکریا نامی راوی نے ایک لفظ مختلف نقل کیا ہے، اگر انہیں کچھ دیا جائے تو وہ شکر گزار نہیں ہوتی ہیں میں نے جہنم میں لحی بن عمرو کو اپنی انتڑیاں گھسیٹتے ہوئے دیکھا اور میں نے جن لوگوں کو دیکھا ہے وہ ان میں سے مجھے اپنی ذات کے حوالے سے اندیشہ ہے کیونکہ وہ والد ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم نے فرما یا: تمہیں کوئی نقصان نہیں ہو گا، کیونکہ تم مومن ہو اور وہ کافر ہے یہ وہ پہلا فرد تھا جس نے عربوں کو بتوں کی عبادت پر اکٹھا کیا تھا۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے۔
جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ:
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [prayer book] › Chapter on What is Permissible to Work in Prayer] · Hadith 2482
