مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ وَحَقْنِهَا لِلدَّمِ] · حديث 1666
1666 - وَعَنْ أَبِي مُسْلِمٍ قَالَ: «دَخَلْتُ عَلَى أَبِي أُمَامَةَ وَهُوَ يَتَفَلَّى فِي الْمَسْجِدِ وَيَدْفِنُ الْقَمْلَ فِي الْحَصَى، فَقُلْتُ: يَا أَبَا أُمَامَةَ، إِنَّ رَجُلًا حَدَّثَنِي عَنْكَ أَنَّكَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ غَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهِهِ، وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ، ثُمَّ قَامَ إِلَى صَلَاةٍ مَفْرُوضَةٍ - غَفَرَ اللَّهُ لَهُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ مَا مَشَتْ إِلَيْهِ رِجْلَاهُ، وَقَبَضَتْ عَلَيْهِ يَدَاهُ، وَسَمِعَتْ إِلَيْهِ أُذُنَاهُ، وَنَظَرَتْ إِلَيْهِ عَيْنَاهُ، وَحَدَّثَ بِهِ نَفْسَهُ مِنْ سُوءٍ "، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِرَارًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ أَبِي مُسْلِمٍ الثَّعْلَبِيِّ عَنْهُ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ.
ابو مسلم بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ اس وقت مسجد میں جوئیں نکال تھے، اور جوؤں کو کنکریوں میں دفن کر رہے تھے، میں نے کہا: اے حضرت ابو امامہ ! ایک شخص نے مجھے آپ کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی ہے، کہ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: " جو شخص وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرے ، اور اپنے دونوں ہاتھوں اور چہرے کو دھو لے ، اور اپنے سر اور اپنے کانوں کا مسح کر لے، اور پھر اٹھ کر فرض نماز ادا کر ے، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے ، اس دن کے ان گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہے، جس کی طرف اس کے پاؤں چل کر گئے ہوں ، یا جنہیں اس کے ہاتھوں نے پکڑا ہو، یا جس کو اس کے کانوں نے سنا ہو، یا جس کی طرف اس کی آنکھوں نے دیکھا ، یا جو اس نے اپنے من میں برا سوچا ہو" ۔ تو حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبانی یہ بات کئی مرتبہ سنی ہے۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ابو مسلم ثعلبی کی ان سے نقل کر دہ روایت کے طورپر نقل کی ہے، اور میں نے کسی کو اس راوی کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے۔
يَدْفِنُ الْقَمْلَ فِي الْحَصَى، فَقُلْتُ: يَا أَبَا أُمَامَةَ، ← دَخَلْتُ عَلَى أَبِي أُمَامَةَ وَهُوَ يَتَفَلَّى فِي الْمَسْجِدِ ← اَبِیْ مُسْلِمٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [prayer book] › Chapter on the merit of prayer and its injection into blood] · Hadith 1666
