مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ هَلْ يُصَلَّى غَيْرُهَا] · حديث 2398
2398 - وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: «دَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبِلَالٌ يُقِيمُ الصَّلَاةَ فَرَأَى رَجُلًا يُصَلِّي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فَقَالَ لَهُ: " أَصَلَاتَانِ مَعًا؟»! ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ بَشِيرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ. قُلْتُ: وَيَأْتِي حَدِيثُ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ فِي الْأَوْقَاتِ الَّتِي تُكَرَهُ فِيهَا الصَّلَاةُ فِيمَا لَهُ سَبَبٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى.
حضرت زید بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم (مسجد) داخل ہوئے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز کے لئے اقامت کہ رہے تھے نبی اکرم نے ایک شخص کو فجر کی دو رکعات (سنتیں) ادا کرتے ہوئے ملاحظہ فرمایا تو اس سے فرمایا: کیا دو نمازیں ایک ساتھ ادا کی جا رہی ہیں؟ "۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالمنعم بن بشیر ہے، اور وہ "ضعیف" ہے۔ میں یہ کہتا ہوں : حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول حدیث اس باب میں آئے گی، جس میں ان اوقات کا تذکرہ ہے جن میں نماز ادا کرنے کو مکروہ قرار دیا گیا ہے، اس میں حکم کا سبب بیان ہو گا اگر اللہ نے چاہا۔
«دَخَلَ النَّبِيُّ وَبِلَالٌ يُقِيمُ الصَّلَاةَ فَرَأَى رَجُلًا يُصَلِّي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ ← زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [prayer book] › Chapter When prayers are established, can other prayers be performed] · Hadith 2398
