مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ مَنْ أَمَّ النَّاسَ فَلْيُخَفِّفْ] · حديث 2374
2374 - وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «مَرَّ حَزْمُ بْنُ أَبِي كَعْبِ بْنِ أَبِي الْقَيْنِ بِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَهُوَ يُصَلِّي بِقَوْمِهِ صَلَاةَ الْعَتَمَةِ فَافْتَتَحَ بِسُورَةٍ طَوِيلَةٍ وَمَعَ حَزْمٍ نَاضِحٌ لَهُ، فَتَأَخَّرَ فَصَلَّى فَأَحْسَنَ الصَّلَاةَ ثُمَّ أَتَى نَاضِحَهُ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ مِنْ صَالِحِ مَنْ هُوَ مِنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " لَا تَكُونَنَّ فَتَّانًا - قَالَهَا ثَلَاثًا - إِنَّهُ يَقُومُ وَرَاءَكَ الْكَبِيرُ وَالضَّعِيفُ وَذُو الْحَاجَةِ وَالْمَرِيضُ» ". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: حزم بن ابو کعب بن ابولقین کا گزر حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سے ہوا جو اپنی قوم کو عشاء کی نماز پڑھا رہے تھے انہوں نے طویل سورت کی تلاوت شروع کر دی حزم کے ساتھ ان کی اونٹنی بھی تھی وہ پیچھے ہٹے اور انہوں نے تنہا نماز اد کی اور اچھے طریقے سے ادا کی پھر وہ اپنی اونٹنی کے پاس آ گئے بعد میں وہ نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے اس بارے میں بتایا انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ان کی طرف والی چیز سے زیادہ موزوں تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم آزمائش کا شکار کرنے والے ہر گز نہ بننا، یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی، کیونکہ تمہارے پیچھے عمر رسیدہ ضعیف کام کاج والے اور بیمار لوگ کھڑے ہوتے ہیں۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: یہ روایت "صحیح" میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے
جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ:
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [prayer book] › The door from the people, let him lighten] · Hadith 2374
